صفحات

اتوار، 9 مارچ، 2014

تھر کے لنگر خانے

ملک صاحب کیسا رہا پھر ہمارا سندھ فیسٹیول
سر جی جواب نہیں تہاڈا ۔۔ سندھ دیاں شاناں آپ کے ہی دم سے ہیں اور پھر بچوں نے تو کمال ہی کر دیا ۔۔ چھوٹی بی بی نے تو سندھ فیسٹیول کے ہر رنگ میں شامل ہو کر اسے چار چاند ہی لگا دئے تھے۔اور تو اور سر جی اختتامی تقریر میں تو اپنے چھوٹے سردار نے طالبان کو ایسا لتاڑا کہ مزا آگیا ۔۔

سر جی یہ جو آپ کے پیچھے دائیں ہاتھ اتنا بڑا صحرا ہے ۔۔۔۔

کونسا ملک صاحب ۔۔۔ کہیں تم تھر کے علاقے کی بات تو نہیں کر رہے

جی سر جی یہی تھر کا صحرا
سر جی ۔۔۔ مم ۔۔ میرا مطلب ہے ہم اسے آباد کر دیتے ہیں ۔۔۔۔دیکھیں نہ سر جی کتنی غربت ہے ۔۔۔ نہ کھانے کو کچھ ہے اور نہ ہی پینے کو ۔۔۔۔

ہممم ۔۔۔۔ ملک صاحب پہلے لوگوں کا دھیان ادھر ڈلواؤ ۔۔۔لوگوں کو بتاؤ کہ تھر میں کتنی غربت ہے ۔۔۔ وہاں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں
میڈیا کو استمال کرو ۔۔۔ سوشل میڈیا پر کانٹے ڈالو ۔۔۔۔۔۔ باقی بھیڑ چال ہے ملک صاحب بھیڑ چال ۔۔۔ سب ادھر چڑھ دوڑیں گے ۔۔۔۔ جب چڑھ دوڑین تو امداد کا اعلان کر دینا ۔۔۔ وہاں لنگر خانے کھلوا دو ۔۔۔ باقی ہماری طرف سے جو ہوا کریں گے ۔

واہ سر جی واہ ۔۔۔ فکر ہی نہ کریں سر جی ۔۔۔ لنگر خانے کھول دیتے ہیں وہاں ۔۔۔
سر جی وہاں آپ کی شکار گاہ کے لئے میں نے دس مربوں کا علیحدہ نقشہ بنوا لیا ہے ۔۔۔ یہ اضافی ہوگا سر جی

ملک صاحب باتیں چھوڑو ۔۔۔ بس کام شروع کرو

اتوار، 16 فروری، 2014

نئے اردو بلاگر ٹمپلیٹ ( سانچے ) ڈانلوڈ کریں

کافی عرصہ سے بہت سے دوست شکوہ کر رہے تھے کہ بلاگسپاٹ کے ٹملیٹ ( سانچے ) پرانے ہو گئے ہیں۔اردو کے نئے اور جدید سانچے ہونے چاہیں۔آج کام کم ہونے کی وجہ سے ہم نے سات عدد بلاگسپاٹ سانچوں کو آپ کے لئے اردو میں ڈھال دیا ہے۔

یہ سانچے بظاہر سادے مگر انتہائی جازب نظر ہیں ۔ان میں سے کچھ سانچے تین کالمی ہیں باقی دوکالمی سانچوں کی چوڑائی کو بڑا رکھا گیا ہے۔فونٹ سائز کو مناسب رکھا گیا ہے۔پھر بھی اگر کسی صاحب کو فونٹ سائز یا کلر سکیم اچھی نہ لگے تو تبصرے میں شکوہ شکایت کر سکتا ہے۔

سانچہ اپنے بلاگ میں ڈالنے سے پہلے یا بعد میں اپنے بلاگ کی زبان اردو میں ضرور کیجئے گا۔یہ بہت اہم ہے ۔بلاگ کی زبان اردو میں کرنے کے لئے نیچے تصاویر دی جارہی ہیں جن سے آپ اپنے بلاگ کی زبان آسانی سے اردو میں کر سکتے ہیں

اردو بلاگسپاٹ ٹمپلیٹ ( سانچے) یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

ٹمپلیٹ ( سانچوں ) کو اپ ڈیٹ کر کے ان کی تعداد ٢٠ بیس کر دی گئی ہے ۔۔۔ انشااللہ جلد ہی اور جدید ٹملیٹ مہیا کر دئے جائیں گے

بلاگ کی زبان اردو میں کرنے کے لئے نیچے دی گئی تصاویر کو کلک کر بڑا کر کے دیکھیں





جمعرات، 13 فروری، 2014

شورہ ۔۔۔۔ شوربہ نہیں بن سکتا


شورہ پنجابی زبان کا لفظ ہے ۔آپ اس لفظ کو پنجابی کی گالی بھی کہہ سکتے ہیں۔ہمارے لاہوریوں میں یہ گالی کثرت سے نکالی جاتی ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص گندہ ، غلیظ ہو یا کہ اس کی عادتیں غلیظ ہوں اس کو عموماً ‘‘ شورہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔کچھ لوگ لڑکیوں کے دلال جسے عرف عام میں پنجابی زبان میں ‘‘ دلا ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔۔ کو بھی شورہ کہتے ہیں ۔۔۔۔
ضروری نہیں کہ دلال کو ہی شورہ کہا جاتا ہے بلکہ ایسے لوگ جو بغل میں چھری منہہ میں رام رام کی مالا جپتے نظر آتے ہیں ۔۔یعنی منافق کو۔۔۔ کو بھی لاہوری ‘‘ شورہ ‘‘ کے لقب سے پکارتے ہیں ۔
ایک آدمی میں بہت سی بری عادتیں جمع ہوں اور اس کی حرکتیں بھی گندی ہوں جو کہ اس کے قول فعل سے ظاہر بھی ہوتی ہوں تو اسے بھی ‘‘ شورہ ‘‘ کہتے ہیں ۔


کچھ ایسے لوگوں کو بھی ‘‘ شورہ ‘‘ کا لقب دیا جاتا ہے جن کو عزت راس نہ آئے ۔۔ یعنی کہ ان کی عزت کی جائے مگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہیں ۔ ۔۔ اس لئے انہیں شورہ کا لقب دیا جاتا ہے اور انہیں جتایا جاتا ہے کہ تم شورے ہی رہو گے شوربے نہیں بن سکتے ۔


اب ‘‘ شورے ‘‘ اور ‘‘ شوربے ‘‘ میں کیا فرق ہے ۔کسی بھی سالن میں پانی میں مرچ مصالحے ڈال شوربہ تیار کیا جاسکتا ہے ۔پتلے اور زیادہ شوربے کے لئے زیادہ پانی اور گاڑھے شوربے کے لئے مصالحہ جات کے ساتھ کم پانی استمال کر کے شوربہ بنایا جاتا ہے۔


اسی طرح ‘‘ شورہ ‘‘ معاشرے کے مصالحہ جات سے پک کر تیار ہوتا ہے ۔اس کی ابیاری اس کے گھر سے ہوتی ہے ۔بعد ازاں اس میں تمام بری عادتیں ڈال کر اس کو پکایا جاتا ہے تب جاکر اسے اس عظیم نام ‘‘ شورہ ‘‘ کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔


اسی طرح پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنی اپنی بولی اور مزاج کے حساب سے مختلف الفاظ رائج ہیں ۔ جو کہ اپنے آپ میں معنی خیز ہوتے ہوئے ایک پوری تاریخ رکھتے ہیں ۔اسی طرح لفظ ‘‘ شورے ‘‘ کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے ۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد تقریباً ١٩٥٠ میں پہلی دفعہ یہ لفظ ‘‘ شاہی محلے ‘‘ میں ‘‘ استاد فیقے ‘‘ نے بولا تھا۔کنجروں کے مستند زرائع یہ بھی کہتے ہیں کہ استاد فیقے کی معشوقہ ایک دن کوٹھے پر ڈانس کے لئے نہیں آئی تو اس کے دلال کو استاد فیقے نے ‘‘ شورے ‘‘ کے الفاظ سے پکارا تھا ۔۔۔ صحیح الفاظ کے بارے میں کوئی سند تو نہیں مل سکی البتہ تاریخ ( بڑے بوڑھوں کی زبانی تاریخ ) میں جو الفاظ ملتے ہیں وہ کچھ یوں تھے‘‘‘‘‘ اوئے شورے اج ننھی مجرے تے نہی آئی ‘‘‘‘

سوموار، 3 فروری، 2014

اردو بلاگرز اور میڈیائی مفتے

الیکشن سے چند مہینے پہلے سے لے کر آج سے چند ہفتوں پہلے تک سوشل میڈیا پر جہاں گندے سیاستدانوں کی مٹی پلید کی گئی وہاں ٹی وی میڈیا کے غلط اقدامات پر اسے بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ۔اب لگام تو ڈالنی ہی تھی نا ان لوگوں کو ۔۔۔ سو مفت کا دانہ ڈال کر ابتدا کر دی گئی ۔
یہ بھی یاد رہے کہ میڈیائی مفتوں نے دھڑلے سے اردو بلاگروں کی تحریریں چوری کر کے اپنے اخباروں میں بغیر ویب سائٹ کا لنک دئے چھاپی ہیں ۔ پتہ چلنے پر بغیر کوئی معذرت کئے بلاگروں کو مفتے کا لولی پاپ دے کر خوش کیا جارہا ہے ۔اور اردو بلاگرز بھی ایسے بھولے بادشاہ اور جذباتی ہیں کہ بس نہ پوچھیں ۔۔۔۔  اگر اپنے یہ محترم بلاگرز میڈیا خصوصاً ٹی وی اور اخبارات کے حالات و واقعات سے آگاہ ہوتے تو یوں تالیاں نہ پیٹ رہے ہوتے ۔

اردو بلاگرز کا مشہور ہونا اچھی بات ہے ۔ان کو پیسے ملنا اور بھی اچھی بلکہ خوشی کی بات ہے ۔۔۔۔ کروڑوں روپے روزانہ کمانے والے میڈیائی مفتے اگر بلاگروں کو ان کی تحریروں کا مناسب معاوضہ دیتے ہیں تو ان کے لئے لکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔

اب یہاں ایک بات جو انتہائی اہم ہے کہ بلاگ ایک سوچ کا نام ہے اور سوچوں پر پہرے نہیں بٹھائے جا سکتے ۔
اب ایک بلاگر کے کسی بھی روزنامے پر لکھنے سے کیا ہوگا ۔۔۔۔بس یہی ہوگا کہ ان کی تحریریں ایک خاص انداز اور نظم و ضبط کے اندر چھپنے کی وجہ سے یہ بلاگر کی پہچان کھو بیٹھیں گی ۔کیونہ یہ تجارتی بنیادوں پر لکھیں گے اور تجارتی بنیادوں پر لکھنے والا اپنے آقا کے بنائے ہوئے قوانین کا پابند ہوتا ہے ۔۔۔ سو اسے پابندی تو کرنی پڑے گی ۔
بلاگر وہی رہے گا اور کہلائے گا جس کی تحریر میں اس کی سوچ اور آزادی کا پر تو ہوگا

جمعہ، 31 جنوری، 2014

علم والوں اور بے علموں کو ایک جیسا ہی دیکھا گیا ہے

کبھی کبھی تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ آپ ترقی کے اس دور جدید کے ہوتے ہوئے بھی پتھر ہی کے دور میں رہ رہے ہیں ۔انسان اتنا پڑھنے ، سمجھنے اور تجربات حاصل کرنے کے باوجود بھی جانور سے بدتر ہی ہے ۔میں نے تو علم والوں اور بے علموں کو بھی ایک جیسا ہی دیکھا اور پرکھا ہے ۔بلکہ کبھی کبھار تو ‘‘ بے علم ‘‘ علم والوں سے کئی درجے بہتر دکھائی دیتے ہیں۔

بڑے بوڑھے کہتے ہیں کہ ‘‘ زن ، زر اور زمین ‘‘ انسان کو گمراہ کر دیتے ہیں ۔بڑے بوڑھے صحیح کہتے ہیں مجھے ان کی باتوں کو ترازو کے پلڑے میں تولنے کی ضرورت بھی نہیں بلکہ میں تو یہ  کہنا چاہوں گا کہ ‘‘ جاہ ‘ یعنی حکمرانی ، طاقت ، اکڑ اور غرور بھی انسان کو تباہی کے دہانے میں لے جا پھینکتے ہیں ۔

انسان مرد اور عورت میں سے کسی بھی روپ میں ہو ۔۔۔ اس کو سمجھنے کا دعوٰی کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔ انسان اپنی ‘‘ خو ‘‘ میں رہتے ہوئے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔ جس میں اچھائی اور برائی کے دونوں پہلو شامل ہیں ۔
آج میں کیا کہنا چاہتا ہوں یہ میں خود بھی جان نہیں پا رہا ۔۔۔ جبکہ سوچ اور قلم بھی ساتھ دے رہے ہیں ۔۔۔ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ جو میں کہنا چاہتا ہوں اسے میں دوسروں کے ساتھ بانٹنا نہیں چاہتا۔

قارئین کرام نوٹ فرما لیں ! 
بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر میں نے اپنے ذاتی بلاگ کو یہاں بلاگسپاٹ پر منتقل کر دیا ہے ۔ہو سکتا ہے آپ کو بعض تصاویر و تحریر یا کہ تبصرے نظر نہ آئیں ۔انشااللہ وقت کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی اصل حالت میں شائع کر دیا جائے گا۔

اتوار، 5 جنوری، 2014

ورلڈ بنک اور واسا کی جانب سے ایک ورکشاپ کا انعقاد ‘ اردو بلاگرز کی شرکت

پانی ضائع ہونے سے بچائیں ‘ ورلڈ بنک اور واسا کی جانب سے ایک ورکشاپ کا انعقاد

گذشتہ روز ورلڈ بنک اور واسا لاہور کی جانب سے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں اردو بلاگرز ، طالب علم ، انڈسٹری سے متعلق افراد اور واسا سٹاف شریک ہوئے ۔جبکہ ورلڈ بنک کی نمائندگی واٹر اینڈ سینی ٹیشن سپیشلسٹ مسٹر مسرور احمد اور ریجنل کیمونیکیشن سپیشلسٹ محترمہ وندانہ مہرا نے کی ۔کواڈینیٹر کے فرائض مسٹر مزمل اور ان کی اسسٹنٹ ساتھی نے ادا کئے
ورکشاپ کے پہلے سیشن میں مسٹر مسرور احمد نے عام عوام کی جانب سے پانی کے ضیاع کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے دیہات میں بیت الخلا کی کے صحیح نظام کو رائج کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ جہاں اس سے صفائی کا نظام بہتر ہو گا وہاں حفظان صحت کے اصولوں کے تحت بیماریوں پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی ۔محترمہ وندانہ مہرا کا کہنا تھا کہ ہندوستان کی ستر پرسنٹ سے زاید دیہاتی آبادی میں بھی سینی ٹیشن کے حوالے سے خاصی تشویشناک صورتحال تھی جس پر ورلڈ بنک کے تعاون سے بڑی حد تک قابو پا لیا گیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے محکمے اور عوام کے درمیان رابطہ بے حد ضروری ہے ۔محترمہ وندانہ مہرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارا آج کی ورکشاپ منعقد کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم کس طرح سے عام عوام اور محمکمے کے درمیان تعلق کو فعال اور بہتر بنا سکتے ہیں ۔

سوال و جواب کے سیشن میں اردو بلاگر ساجد شیخ نے واسا کے افسران پر عوام کی بروقت شکایات دور کرنے پر زور دیا تاکہ عوام کا اعتماد ان پر بحال ہو ۔اردو بلاگر عاطف بٹ نے واسا کے حکام اور عوام میں ربط بڑھانے کے لئے سوشل میڈیا اور اردو بلاگرز کی افادیت کو اجاگر کیا اور ان کے استمال کو بروئے کار لانے کا مشورہ دیا ۔اردو بلاگر نجیب عالم ( شیخو) نے واسا کے افسران کی توجہ پانی کی سرعام چوری اور اس کے ضیاع پر دلائی اور اسے کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیا۔

ٹریڈ سٹون کی ڈائیریکٹر سائرہ خان ( سائیکالوجسٹ ) نے عام عوام اور محکمے میں ربط بڑھانے پر ٹیکسٹ میسج کی ضرورت پر زور دیا اور ہنگامی صورتحال میں محلے کی مساجد میں اعلان کروانے کی تجویز پیش کی ۔ایک اور بڑی اہم تجویز جو انہوں نے پیش کی وہ یہ تھی کہ گلی محلہ لیول پر وہاں کے پڑھے لکھے اور سرکردہ افراد کو ٹرینگ مہیا کی جائے ۔تاکہ عام آدمی اور محکمے کے درمیان آسانی سے رابطہ ممکلن ہو سکے ۔

اسسٹنٹ ڈائیریکٹر واسا وردہ عمان ، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر شیخ عظمت علی ، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر محمد رحمان خان ، اسسٹنٹ ڈائیریکٹر بلال شاہ کا کہنا تھا کہ لاہور میں اس وقت ٤٩١ ٹیوب ویل کام کر رہے ہیں جو کہ آپس میں انٹرلنک ہیں اور ہم لوڈ شیڈنگ کے باوجود چیف منسٹر میاں شہباز شریف کی ہدایات کی روشنی میں عوام کو مسلسل چوبیس گھنٹے پانی سپلائی کر رہے ہیں ۔

میری جانب سے پوچھے گئے اس سوال کے جواب میں کہ لاہور کے گلی کوچوں میں یہ جو فلٹریشن شاپ کھلی ہوئی ہیں جہاں سے عوام پانی خرید کر پی رہی ہے ۔۔ کیا یہ پانی ٹھیک ہے اور کیا یہ واسا کے علم میں ہے ۔میرے سوال کے جواب میں اسسٹنٹ ڈائیریکٹر واسا وردہ عمان کا یہ کہنا تھا کہ ان فلٹریشن پلانٹ والی دکانوں کو ہم نے یعنی واسا نے لائینسس جاری کئے ہیں اور ہم ان پر مکمل چیک رکھتے ہیں تاکہ یہ لوگ عوام کو حفضان صحت کے اصولوں کے مطابق پانی مہیا کریں ۔

سوال و جواب کے سیشن کے بعد کھانے پینے کا مرحلہ آ پہنچا ۔۔۔ عین دوپہر کے وقت میں یعنی ١٢ سے ٣ بجے دعوت دی گئی تھی اس لئے تقریباً سب ہی بھوکے تھے ۔سب کی میزوں پر مختلف رنگوں سے سجے بسکٹوں کی ایک ایک بھری ہوئی پلیٹ سجا دی گئی اور تھوڑا دور شادی والے ماحول کی طرح ایک بڑا سا کولر گرما گرم گرین چائے کا سجا کر ہمیں کھلا چھوڑ دیا گیا ۔

میں مزے سے بسکٹ کھا کر یہ سوچ رہا تھا کہ اگر ہم سب بھی اسی طرح کفایت شعاری کا مظاہرہ کیا کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بھی ورلڈ بنک کی طرح امیر نہ ہوجائیں ۔ اب یہی دیکھیں سات پلیٹوں اور ایک گرین چائے کے کولر میں اگر پچاس آدمی بھگتائے جاسکتے ہیں تو ایک شادی جس میں دو سو بندے شریک ہوں اٹھائیس پلیٹوں میں کیوں نہیں بھگتائے جاسکتے ۔

خیر یہ حسابی کتابی باتیں ہیں ان کو ہم بھی ورلڈ بنک اور واسا کے درمیان کھلا چھوڑ دیتے ہیں


یہاں بلاگ پر آدھی تصاویر رکھی گئی ہیں ۔۔۔ مکمل تصاویر آپ میرے گوگل پلس کے پروفائل سے دیکھنے اور ڈاؤنلوڈ کر نے کے لئے یہاں کلک کریں


[gallery link="file" ids="1288,1289,1290,1291,1292,1293,1294,1295,1296,1297,1298,1299,1300,1301,1302,1303,1304,1305,1306,1307,1308,1309,1310,1311,1312,1313,1314,1315,1316,1317,1318,1319,1320,1321,1322,1323,1324,1325,1326,1327,1328,1329,1330,1331,1332,1333,1334,1335,1336,1337,1338,1339,1340,1341,1342,1343,1344,1345,1346,1347,1348,1349,1350,1351,1352,1353,1354,1355,1356,1357,1358,1359,1360,1361,1362,1363,1364,1365,1366,1367,1368,1369,1370,1371,1372,1373,1374,1375,1376,1377,1378,1379,1380,1381,1382,1383,1384,1385,1386,1387,1388,1389,1390,1391,1392,1393,1394,1395,1396,1397,1398,1399,1400,1401,1402,1403,1404,1405,1406,1407,1408,1409,1410,1411,1412,1413,1414,1415,1416,1417,1418,1419,1420,1421,1422,1423,1424,1425,1426,1427,1428,1429,1430,1431,1432,1433,1434,1435,1436,1437,1438,1439,1440,1441,1442,1443,1444,1445,1446,1447,1448,1449,1450,1451,1452,1453,1454,1455,1456,1457,1458,1459,1460,1461,1462,1463,1464,1465,1466,1467,1468,1469,1470,1471,1472,1473,1474,1475,1476,1477"]

ہفتہ، 21 دسمبر، 2013

تھوکا تھوکی تھوکاڑ

thookاس سے پہلے کہ میں ‘‘ تھوکا تھوکی تھوکاڑ ‘‘ کے بارے کچھ عرض کروں میں تینوں فارموں کی تشریح کرنا چاہوں گا۔
تھوکا ۔۔۔ ایک عام تھوک ( منہہ کا گندہ پانی ) جو ایک وقت میں ایک ہی بار ایک عام مقدار میں پھینکی جائے اسے میں نے تھوکا کا نام دیا ہے
تھوکی ۔۔ یہ ایک ایسی تھوک ہے جو ایک انسان راہ چلتے ہوئے بار بار پھینکتا ہے ۔۔۔ اسے میں نے تھوکی کا نام دیا ہے
تھوکاڑ ۔۔۔ یہ ایک ایسی تھوک ہے جو ایک انسان ریشے سے بھری ، یا پان کی پیک سے بھری، یا جان بوجھ کر منہہ بھر کر پھینکتا ہے ۔۔ اسے میں نے تھوکاڑ کا نام دیا ہے۔

گھر ہو یا باہر کچھ لوگ اس ‘‘ تھوکا تھوکی تھوکاڑ ‘‘ کی لت کا ایسا شکار ہیں کہ نہ آگے دیکھتے ہیں اور نہ ہی پیچھے ، منہہ بھر کے اپنا لعاب دہن دھاڑ سے سڑک کے بیچ دے مارتے ہیں ۔۔۔ بندہ پوچھے بھائی اگر آپ نے تھوک پھینکنی ہی ہے تو آرام سے سائٹ پر ہو کر بھی پھینکی جا سکتی ہے ۔

دیکھنے میں یہ بھی آیا ہے کہ عموماً موٹر سائکل سوار چلتی ہوئی موٹر بائک سے ایسا تھوکاڑ مارتے ہیں کہ پیچھے آنے والا یا پیدل چلنے والا بیچارہ اس گندگی سے اپنا منہہ صاف کرتا اور اسے برا بھلا کہتا ہی نظر آتا ہے ۔

کئی بسوں کے مسافروًں میں بھی یہ حرکت دیکھنے کو ملتی ہے کہ وہ کھڑکی سے منہہ باہر نکال کو تھوکاڑ دے مارتے ہیں جس سے سڑک پر کھڑے لوگ اس کی اس حرکت پر عموماً غیلظ گالیوں سے نوازتے بھی دیکھے گئے ہیں ۔

اس گندی حرکت میں کرکٹ اور فٹ بال کے کئی نامور کھلاڑی بھی مبتلا پائے گئے ہیں جو کہ کھیل کے دوراں عموماً گراؤنڈ میں ‘‘ تھوکا ، تھوکی ‘‘ کرتے نظر آتے ہیں ۔
چائے کا ہوٹل ہو یا روٹیوں کا تنور ( تندور ) وہاں کے کام کرنے والے بھی عموماً کام کے دوران کھانے پینے کی چیزوں کے درمیان ہی ‘‘ تھوکا ، تھوکی ‘‘ کرتے نظر آتے ہیں جس دیکھنے والے کی طبعیت مکدر ہوجاتی ہے اور وہ اسی وقت ساری عمر روٹی کھانے سے بھی توبہ کر بیٹھتا ہے ۔۔۔ مگر تھوڑے وقت بعد ہی وہ سب کچھ بھلا کر یہی سب کچھ کھانے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔کیونکہ بھوک گندگی اور تہذیب پر حاوی ہوتی ہے ۔

پان کی دوکانوں کے سامنے تو ایسے ایسے تھوکاڑ پڑے نظر آتے ہیں کہ بندہ اسے دیکھتے ہی الٹیاں کرنا شروع کر دے ۔کراچی اور حیدرآباد شہر کی کوئی گلی ، محلہ ، سڑک ، فیلٹ اور اس کی سیڑھیاں ایسی نہیں ہیں جہاں تھوکاڑ کی بھرمار نہ ہوئی ہو ۔۔ ایسی ایسی پان کی پیکیں کہ تجریدی آرٹ بنانے والا اپنا سر پیٹ لے ۔

اگر رات کو ہم ٹوتھ پیسٹ کر کے اور اپنا ناک اور منہہ اچھی طرح صاف کر کے سوئیں اور صبح اٹھ کر بھی یہ صفائی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ سارا دن آپ اپنے منہہ کے گندے فالتو پانی سے بچ نہ سکیں۔

جب بھی کوئی چیز کھائیں فوراً اپنا منہہ صاف کریں ، یعنی اچھی طرح کلیاں کر لیں ۔۔ اس سے آپ کی صحت بھی صحیح رہے گی اور دوسرے بھی آپ کی ‘‘ تھوکا تھوکی تھوکاڑ ‘‘سے بچیں گے ۔
آخری بات ان لوگوں کے لئے جن کے منہہ سے بدبو آتی ہے ۔۔۔ایسے لوگوں کو چاہئے کہ وہ ادرک کی ایک چھوٹی سی کاش کاٹ کر اپنے منہہ میں رکھ لیا کریں ان کے منہہ کی بو ختم ہو جائے گی