صفحات

سوموار، 6 مارچ، 2006

معصوم خون سے جشن

کل اتوار کو ہمارے ہاں لاہور میں بڑی دھوم دھام سے مِنی بسنت منائی گئی۔لوگوں نے شان کے ساتھ ایک اور معصوم بچے کی گردن کاٹ کر اسے آسمان کی وسعتوں میں بھیجا اور شام دیر تک اسی جشن میں پٹاخے بھی چلائے۔لوگ سارا دن اندحیرے میں بیٹھے انہیں پٹاخوں کی روشنی میں پاکستان کی روشن خیالی کے گیت گاتے رہے۔اور سوچتے رہے کہ آنے والے اتوار کو بڑی بسنت ہے تب تک کیوں نہ ہم چند اور خوبصورت سے بچوں کی گردنیں کاٹ کر اسے ہوا میں اُ ڑائیں ۔




2 تبصرے:

  1. خاصے سخت انداز میں بسنت پر تبصرہ کیا ہے مگر یقیناً آپ کا بھی دل کڑھتا ہوگا۔ آئندہ کسی پوسٹ میں ممکن ہو تو بسنت کے احوال اور روشن خیالی والے معاملے پر بھی روشنی ڈالیے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپ کا شکریہ جو آپ نے بندے کو پذیرائی دی۔جی دل بہت جلتا ہے۔یہ جو بچے کی گردن کٹی ہے یہ ساتھ ہی محلے میں ہوتا تھا۔اس لئے دل کو زیادہ چوٹ لگی۔
    ضرور لکھوں گا بسنت پر بھی اور روشن خیالی پر بھی۔

    جواب دیںحذف کریں