صفحات

منگل، 29 اگست، 2006

اکبر بگٹی کی شخصیت پر ایک نظر

اکبر بگٹی نے ایک انٹرویو میں اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان ختم ہو گیا تو بلوچستان کی تجاویز یہ ہیں،
١۔ عظیم تر چھوٹا بلوچستان
٢۔ بلوچستان ، سندھ اور ڈیرہ غازی خاں کے ادغام سے ایک آزاد مملکت
٣۔ بلوچستان ، پختونستان اور افغانستان کے تین ممالک کی کنفیڈریشن
٤۔ سوویت ری پبلک آف بلوچ
افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء اور روس کی ٹوٹ پھوٹ سے پہلے اکبر بگٹی کا خیال کچھ اور تھا تاہم بعد میں ان کا یہ خیال بنا کہ مذکورہ تمام تجاویز میں سے سوویت ری پبلک آف بلوچ والی تجویز کی بجائے باقی تمام تجاویز پر عمل پیرائی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔
ایک باخبر ذریعہ کے مطابق وفاقی حکومت سے سوئی گیس کی رائلٹی کے نام پر نقد اور سہولتوں کے حوالے سے تقریباً ٢٥ کروڑ روپے سالانہ وصول کرنے والے نواب اکبر بگٹی سوئی میں ہونے والے فوجی اپریشن کے خلاف متحرک تھے۔
بلوچستان میں بم دھماکوں ، گیس پلانٹ اور ایف سی کے قافلوں پر حملوں کا ذمہ دار ملک دشمن عناصر کے ساتھ ساتھ بگٹیوں کا بھی ہاتھ تھا۔

نواب اکبر بگٹی ١٠ جولائی ١٩٢٧ کو پیدا ہوئے۔ان کا اصلی نام شہباز خان تھا جو ان کے دادا کے نام پر رکھا گیا لیکن وہ اکبر بگٹی کے نام سے مشہور تھے۔ابھی وہ چھوٹے تھے کہ ان کے والد نواب صحراب خان کا انتقال ہو گیا۔١٩٣٩ میں جب اکبر بگٹی کی عمر ١٢ سال کی تھی تو انہیں قبیلے کا سردار بنا دیا گیا۔لیکن بلوچستان کی روایت کے مطابق سردار کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے ٢٠ سال کی عمر ضروری تھی۔لہذا اس عمر تک پہنچنے کے لئے میر جمال خان بگٹی کو سردار مقرر کر دیا گیا۔
١٩٤٧ میں نواب اکبر بگٹی نے قبیلے کے سردار کی حثییت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ابتدائی تعلیم انہوں نے کوئٹہ ، کراچی اور ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی۔١٩٤٣ میں بقول اکبر بگٹی کے کانگرس کی تحریک سے متاثر ہو کر انہوں نے ہیٹ اور ٹوپیاں جلا دیں اور گاندھی ٹوپی پہن لی۔١٩٤٧ میں ریفرنڈم ہوا اور اکبر بگٹی نے تحریک پاکستان میں حصہ نہیں لیا۔ کیونکہ بقول ان کی عمر کم تھی ۔
ایوب خان کے دور میں ان پر اپنے چچا ہیبت خان کے قتل کا کیس بنا اور ایک فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تاہم بعد میں سزا ختم کر کے انہیں رہا کر دیا گیا۔
سیاست میں قدم رکھنے کے بعد اکبر بگٹی اعلیٰ عہدوں پر بھی براجمان رہے۔رکن اسمبلی اور صوبے کے وزیراعلیٰ بھی رہے۔
اکبر بگٹی ١٩٥٨ میں سیاست میں داخل ہوئے اس وقت سکندر مرزا نے انہیں وفاقی کابینہ میں شامل کیا لیکن ان کی اصل ہنگامہ خیز سیاست کا دور ١٩٧٠ سے شروع ہوا۔١٩٧٠ کے انتخابات مین اکبر بگٹی نے حصہ نہیں لیا۔١٢ فروری ١٩٧١ کے اخبارات میں ان کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ اکبر بگٹی شیخ مجیب الرحمن سے ملنے ڈھاکہ پہنچے ہیں۔یہاں دونوں لیڈروں نے آئین سازی کے اہم معاملات پر گفت و شنید کی۔بعد میں شیخ مجیب نے کہا لہ چھ نکاتی پروگرام صرف بنگلہ دیش کے لئے نہیں بلکہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کے لئے بھی ہے اور اکبر بگٹی نے مجھ سے سو فیصد اتفاق کیا ہے۔
٣ سمبر ١٩٧١ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مغربی پاکستان میں اصغر خان واحد سیاستدان تھے جنہوں نے فوراً بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح ہم روٹھے بھائیوں کو منا سکتے ہیں۔اکبر بگٹی اس موقع پر اچانک تحریک استقلال کے پلیٹ فارم پر نظر آئے اور ١٨ جنوری ١٩٧٢ کو نشتر پارک کے جلسہ میں لوگوں نے انہیں دیکھا جس کی صدارت بگٹی نے ہی کی تھی۔
١٥ مارچ ١٩٧٢ کو وزیراعظم بنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو روس کے دورے پر روانہ ہوئے تو سیاسی حلقوں بڑی حیرانگی ہوئی کہ وہی اکبر بگٹی جو ایک ماہ پہلے تک بھٹو کے شدید مخالف تھے وہ بھٹو کے سرکاری وفد میں کیسے شامل ہیں۔بگٹی اس وفد کے ساتھ واپس نہیں آئے اور انہوں نے روس میں ہی رہنے کو ترجیح دی اور وہاں سے وہ پھر برطانیہ چلے گئے اس دوران انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان کے خلاف بات کرتے ہوئے آزاد بلوچستان اور بھارت کے ساتھ کنفیڈریشن کی بات کی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 26 اگست، 2006

جَلا دو ۔ گِرا دو ، مار ڈالو

اصول و ظوابط نہ جانے کہاں کھو گئے ، قانون کی پاسداری کا بھی خیال نہیں ، لاٹھی ہے تو ہانکے چلے جاؤ ۔ گولی ہے تو مار ڈالو ، خنجر ہے تو گھونپ دو ، تو پھر توپ داغنے میں بھی ڈر کیسا۔
انسانی قدریں جانے کہاں کھو گئیں مگرسنو تو حقوقِ انسانی کی بازگشت چارسُو گونج رہی ہے اور اس گونج میں انسان کی بے بسی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔
خوف پھیلتا جا رہا ہے ، اندھیرا ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے ، کچھ قربان ہورہے ہیں تو کچھ قربان کر رہے ہیں اور کچھ اس تماشے کودیکھ رہے ہیں۔تماشا دیکھنے اور کرنے والوں کا اصطبل ایک ہی ہے دونوں ہی اپنے نشے میں مست ہیں۔اور یہ مستی ابھی اور رنگ دکھائے گی جس کا رنگ بھی گہرا ہوگا۔



اتوار، 20 اگست، 2006

محترم منتظمین اردو ویب اور محترم اجمل صاحب

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اردو کی ترویج میں اردو ویب کا کردار اور خصوصاً زکریا کی کاوشوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
مگر بات یہاں اصولوں اور نظریات کی تھی۔کوئی تو اپنے اصولوں اور نظریات کو وقتی مصلحت یا جان بوجھ کر نظر انداز کرتا ہے اور کوئی کلیتہً رد کرتا ہے۔
یہاں بات انتظامیہ کی طرف سے نظریات کے رد کی تھی۔یہ صحیح ہے کہ ہر کسی کے نظریات ایک سے نہی ہو سکتے مگر ان نظریات کا احترام تو کرنا چاہئے۔ایک بندہ اسلام کا مذاق اُڑاتا رہے اور انتظامیہ لوگوں کے توجہ دلانے پر یہ کہہ کر خاموش کر دے کہ سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے۔
اگر یہی اظہار رائے کی آزادی تھی تو ہماری باتیں بھی برداشت کرنی چاہئے تھیں۔
ہر بندے کی ایک عمر ہوتی ہے اور عمر کے لحاظ سے اُس میں جذباتی پن بھی ہوتا ہے اور اس جذباتی پن میں علم اور عقل کا عمل دخل کم ہو جاتا ہے اور جہاں بات اسلام کی ہو تو ہم مسلمانوں میں جو مذہبی گھرانوں سے بھی تعلق رکھتے ہوں چاہے اُن کے خود کے اعمال کیسے ہی کیوں نہ ہوں ، مگر بات جب اور جہاں اسلام کی آجائے جذبات میں شدت آ جاتی ہے۔اور اسی شدت کی وجہ سے ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔
یہ بھی صحیح ہے کہ جذبات میں اسلامی تعلیمات اور تہذیب کو مدِ نظر رکھنا چاہئے تھا۔مگر ایسا نہیں ہوا، اس کی صرف ایک وجہ تھی وہ یہ کہ ، لاوا کافی عرصہ سے اُبل رہا تھا۔انتظامیہ کو پہلے ہی چاہئے تھا کہ شروع میں ہی ایسی باتوں کو روک لگاتی جس سے ہم مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہو تاکہ یہ نوبت آنے ہی نہ پاتی۔
اب جبکہ سب کچھ ہو چکا تو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد پہ اعتراض بھی نہیں ہونا چاہئے
محترم اجمل صاحب ، جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو آپ سے اور دوسرے محترم بزرگ بلاگروں سے درخواست کی گئی تھی کہ آگے بڑھ کر یہ سارے معاملات سلجھائیں۔تب آپ سب خاموش رہے تھے اگر تب آپ محترم بزرگ آگے آتے تو شاید یہ نوبت نہ آنے پاتی۔
اب آپ کی یہ تجویز یہ ہے کہ سب کو اکھٹا رہنا چاہئے ، اور کسی ایک تو اپنا شملہ نیچا کرنا چاہئے۔ہمیں اب بھی کوئی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ہم اب بھی یہی کہتے ہیں کہ آپ آگے بڑھیں اور انصاف سے فیصلہ کریں۔انصاف کے فیصلے مشکل ضرور ہوتے ہیں مگر ناممکن نہیں۔

ہفتہ، 19 اگست، 2006

خواجہ سرا

انڈین ہیجڑا کاجل

انسانوں میں تیسری مخلوق کو پنجابی میں ہیجڑا ، کھسرا ، اردو میں خواجہ سرا اور مغربی زبان میں لیڈی بوائے بھی کہا جاتا ہے۔یہ صنف دونوں میں سے یعنی مرد اور عورت میں سے کوئی بھی ہو سکتی ہے مگر عموماً دیکھا یہ گیا ہے کہ خواجہ سرا مردوں میں زیادہ ہوتے ہیں۔

خواجہ سرا عموماً معصوم ہوتے ہیں مگر ان میں سے کچھ خواجہ سرا تشدد پسند بھی ہوتے ہیں۔پاکستان میں پیشہ ور خواجہ سراؤں کی تعداد ایک اندازے کے مطابق ایک سے ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے جبکہ ہندوستان میں ان کی تعداد ١٠ سے پندرہ لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔

انڈین ہیجڑے

دس پندرہ سال پہلے تک پاکستان میں شہروں میں بھی خواجہ سرا کسی بچے کی پیدائیش یا شادی بیاہ کے موقع پر اپنا ناچ گانا دکھانے چلے آتے تھے مگر اب تو گاؤں دیہات میں بھی خال خال ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔جبکہ ہندوستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے کلکتہ ، ممبئی اور دہلی جیسے بڑے شہروں کی اندروں گلیوں میں اب بھی ان کا ناچ گانا سننے کا عام مل جاتا ہے۔

منگل، 15 اگست، 2006

گردن کٹی اور پاکستان آزاد ہو گیا

لاہور میں جشن آزادی کے موقع پر تین سالہ بچی کے گلے پر ڈور پھیر کر آزادی کے متوالوں نے چودہ اگست کی آزادی کا بھر پور جشن منایا۔
اسلامیہ پارک کی رہائیشی دادا ، دادی کے ہمراہ ایک تین سالہ بچی خدیجہ موٹر سائیکل پر سیر کے لئے جب علامہ اقبال روڑ پر پہنچے تو ایک کٹی پتنگ کی ڈور نے خدیجہ کی شہہ رگ کاٹ دی۔خدیجہ کو فوری طور پر شالامار ہستپال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکی۔
ایک اطلاع کےمطابق پولیس نے ایک پتنگ باز کو گرفتار کر لیا ہے۔مگر لاہور میں دوسرے پتنگ بازوں کے نعرے اب بھی چھتوں پر گونج رہے ہیں۔

سوموار، 14 اگست، 2006

اک دعا

pkflag.gif

یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک میں اسلام نافذ فرما
یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک پاکستان کو چوروں ڈاکوؤں سے بچا
یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک کو علماء سو سے بچا
یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک کو گندے سیاستدانوں سے بچا
یا میرے اللہ پاک ، ہم سب کو اتفاق اور اتحاد سے رہنے کی توفیق عطا فرما
یا میرے اللہ پاک ، ہمارے ملک پاکستان میں امن و سکون عطا فرما
آمین

پاکستان زندہ باد

جمعہ، 11 اگست، 2006

واصف علی واصف

لاہور شہر میں چوبرجی کی طرف سے اگر آپ میانی صاحب کی طرف جائیں تو قبرستان ختم ہونے سے تھوڑا پہلے دائیں ہاتھ پر ایک بڑے سے بورڈ پر بڑے جعلی حروف میں حضرت واصف علی واصف لکھا نظر آتا ہے ١٩٩٠ اور ١٩٩١سے پہلے اسی جگہ میانی صاحب کے قبرستان کی آخری کھائیاں بنی ہوئی تھیں جہاں لوگ عموماً گندگی اور کوڑا کرکٹ وغیرہ پھینکا کرتے تھے۔اور انہیں دنوں میں اور میرا دوست رضا شاہ ( جس کے ابھی تک دو امام باڑے ٹھیکے پر چل رہے ہیں) حسبِ معمول اپنی ڈیوٹی پر جارہے تھے کہ کیا دیکھتے ہیں ،سڑک سے تھوڑا اندر کھائی کے بالکل اوپری کنارے پر کچھ لوگ کھڑے ایک مردے کو دفنا رہے تھے۔میں بڑا حیران ہوا اور شاہ سے کہنے لگا ، یار شاہ جی اس بیچارے کا آگے پیچھے کوئی نہیں لگتا جو یہ لوگ پورے قبرستان کی جگہ کو چھوڑ کر ایسی جگہ اس کو دفنائے جا رہے ہیں۔
کہنے لگا آؤ دیکھے لیتے ہیں کہ کیا مسلئہ ہے، پوچھنے پر پتہ چلا کہ نشئی آدمی تھا اور پتہ نہیں کیا لکھتا رہتا تھا اور آخر کار آج چل بسا ، اسی کو دفنا رہے ہیں۔
ہم اپنی راہ ہو لئے ، گذر تو ہمارا روزانہ اُدھر سے ہی ہوتا تھا ، کیا دیکھتے ہیں کہ مہینہ بھر بعد ہی وہاں پر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا دیا گیا جس پر صرف واصف علی لکھا ہوا تھا۔بورڈ کو دیکھتے ہی میں نے شاہ سے کہا ، یار شاہ جی دیکھنا،یہاں ایک مزار ضرور بنے گا اور اگلے سال سے یہاں عرس بھی ہو گا، شاہ ہنسنے لگا اور کہا ، نہیں یار اب ایسا بھی کیا۔مگر میں اپنی بات پر مصر رہا۔
وقت گذرتا چلا گیا ۔روزانہ ہی ہماری نگاہ اس قبر پر ضرور پڑتی تھی ، آہستہ آہستہ پہلے اُس قبر کو پختہ کیا گیا پھر سڑک سے قبر تک جانے والے راستے کو تھوڑی سی مٹی ڈال راستہ بنا دیا گیا۔
ایک سال گذرنے کے بعد وہاں عرس تو نہ ہوا مگر یہ ضرور ہوا کہ دو چار ڈھول والے وہاں ڈھول پیٹتے ضرور دیکھے گئے۔میں نے پھر شاہ کو یاد کروایا اور کہا ، شاہ جی یہاں عرس ضرور ہو گا۔
١٩٩٤تک ہم نے دیکھا کہ قبر کو مکمل پختہ کر دیا گیا اور اُس کے اوپر ٹین کی چھت ڈال دی گئی تھی اور قبر کے باہر بائیں ہاتھ پر ساتھ ہی ایک لیٹرین بنا دی گئی اور واصف علی کی جگہ ، حضرت واصف علی واصف لکھا جا چکا تھا،قبر تک جانے والی جگہ کو پکی کر دیا گیا اور قبر کے پیچھے کھائیوں پر آہستہ آہستہ بھرتی ڈلوائی جا رہی تھی۔١٩٩٤ میں ہی پہلی د فعہ ہم نے میانی صاحب کی دیواروں پر حضرت واصف علی واصف نام کے عرس کے اشتہار بھی لگے ہوئے دیکھے ۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے شاہ کو کہا تھا کہ یار شاہ جی اس مزار کا ٹھیکہ لے لو ساری عمر عیش کرو گے۔شاہ میری بات سن کر ہنس پڑا تھا۔
آج جب کہ اتنا عرصہ بیت چکا،واصف علی کو لوگ حضرت واصف علی واصف کے نام سے جانتے ہیں اور اُس کا عرس بڑی شان سے منایا جاتا ہے۔سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ اُس کی ایک ویب سائٹ بھی انٹر نیٹ پر موجود ہےاور بہت سی صوفیانہ کتابیں جو کمائی کی خاطر پتہ نہیں کس کی لکھیں ہوئی ہیں ، مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔


بدھ، 9 اگست، 2006

اسرائیل اور امریکہ کی امن پسندی

آج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُنتسویں روز بھی امریکہ اور اسرائیل کا دنیا کو امن پسندی کا گہوارہ بنانے کے لئے لبنان پر امن کے گولے داغنے کا عمل جاری و ساری ہے۔ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ شاید امریکہ اور اسرائیل کے خیال میں یہی بچے کل کو جوان ہو کر دنیا کا امن تباہ کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

Source:
http://www.fromisraeltolebanon.info

http://www.fromisraeltolebanon.info



منگل، 8 اگست، 2006

بَلوں کی خود کشی


آج انگلینڈ کے خلاف میچ میں پاکستان کے بلوں نے خود کشی کر لی جس کی وجہ سے ہماری پاکستانی ٹیم کو خالی ہاتھوں سے کھیلنا پڑا۔اور خالی ہاتھوں کھیلنے کی وجہ سے مجبوراً انہیں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
دیکھا جائے تو یہ معمول کی بات تھی مگر بابا عیدو کہتا ہے کہ کچھ کھلاڑی بِک چکے تھے۔اور ایسے کھلاڑی ہمیشہ سے ہی پاکستان کی عزت ہمیشہ داؤ پر لگاتے رہے ہیں۔
اصل میں بابا عیدو عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے عموماً ایسی ہی بےوقوفی کی باتیں کرتا رہتا ہے ، دیکھا جائے تو ایسا پاکستانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ ہمارے کسی کھلاڑی نے ایسا کر کے پاکستان کی عزت داؤ پر لگائی ہو، ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے کوئی غریب کھلاڑی کسی امیر آدمی سے کبھی کبھار دال روٹی کے پیسے لے لیتا ہو مگر اس سے یہ کہنا کہ ایسا کرکے اُس نے پاکستان کی عزت کو داؤ پر لگا دیا ،سراسر نا انصافی کی بات ہوگی۔
کھیل تو کھیل ہے اس میں عزت کا کیا کام ، مگر بابا عیدو مصر ہے اپنی بات پر ، پاگل جو ہوا۔

سوموار، 7 اگست، 2006

ہم اور ہمارے لوگ

یہ خوبصورت تصویر نیٹ سے لی گئی ہے اور یہ ہمارے پاکستان کے خوبصورت لوگوں کی تصویر ہے۔یہی ہمارا کلچر ہے انہیں میں سے لوگ ہمارے ہاں بڑے آدمی بھی بنتے ہیں اور جب ایسے لوگوں میں سے کوئی بڑا آدمی بنے تو اسی کے دل میں ہی غریب آدمی کا درد جاگتا ہے۔محلوں اور کوٹھیوں میں رہنے والوں کو کیا پتہ کہ غریب آدمی کا درد کیا ہوتا ہے۔


ہم اور ہمارے لوگ

جمعہ، 4 اگست، 2006

زیادتی

ہمارے پاکستان میں جب کسی عورت سے زیادتی ہو جائے چاہے وہ زیادتی جان بوجھ کر میڈیا والوں نے ہی کیوں نہ اُچھالی ہو تو این جی اوز ایسا واویلا مچاتی ہیں کہ خدا کی پناہ ، پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی کی جاتی ہے اور ایسے ایسے الزامات پاکستان پر لگائے جاتے ہیں کہ ہلاکو خان کے دور کو لوگ اچھا جاننے لگ جاتے ہیں۔اور ساتھ ہی ساتھ ہمسایہ ملک بھارت کی جمہوریت کی ایسی مثالیں بیان کی جاتی ہیں کہ جیسے جنت بھارت ہی کے قدموں تلے ہو۔
ابھی پرسوں کی ہی بات ہے کہ ہمارے ملک کی مایہ ناز این جی اوز کی سربراہ محترمہ عاصمہ جہانگیر جن کا تقریباً پچھلے دو سالوں میں زیادہ تر وقت انڈیا میں گذرتا تھا، کے ساتھ انڈیا میں ہی زیادتی ہو گئی ، کہا یہ جاتا ہے ان کی جامہ تلاشی لی گئی اور جامہ تلاشی بھی بھارت کے مردوں نے زبردستی لی۔جب اس پر احتجاج کیا گیا تو ان مردوں کی طرف سے معذرت کی بجائے وزیر اعظم نے بذاتِ خود معافی مانگ لی۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ چلو کوئی بات نہیں ، اگر یہی بات پاکستان میں وقوع پذیر ہوئی ہوتی تو این جی اوز اسے اتنا اچھالتیں کہ بالاخر صدر بش کو اس میں دخل اندازی کرنا پڑتی اور تلاشی لینے والوں کوالقاعدہ کے دہشت گرد ہونے کے جرم میں اندر کر دیا جاتا۔


ہر لمحہ تازہ ترین اردو راکٹ

منگل، 1 اگست، 2006

گھوم برابر گھوم ، لاٹو

بٹیر بازی ہو یا ککڑ بازی ( مرغ ) ، کتے اور ریچھ کی لڑائی ہو یا اخروٹ بازی ، پِل گولی ہو یا گِلی ڈنڈا ، کبوتر بازی ہو یا تاش کی بازی ، لُڈو ہو یا شطرنج کی بازی ، ان سب کا اپنا ایک علیحدہ مزا ہے۔
لاٹو بازی ( لًٹو ) بھی ایک فن ہے۔اور پھر لًٹو کو چلانا ہر کسی کے بس کی بات بھی نہیں۔لَٹو کی تین قسمیں عموماً دیکھنے کو ملتی ہیں۔
مٹی کا لًٹو ، یہ خاص مٹی کو گوندھ کر بنایا جاتا ہے ایسی مٹی جس سے عموماً مٹی کے برتن بنتے ہیں۔
سلور اور پلاسٹک کا مکس لًٹو، یہ لًٹو کھلونے جیسا ہوتا ہے۔اور یہ لَٹو بازی میں کام نہیں آتا۔
لکڑی کا لًٹو ، یہ لکڑی کا بنا ہوا خوبصورت نقش و نگار والا لًٹو ہوتا ہے اور یہی لًٹو ایسا ہے جس سے بازیاں کھیلی جاتی ہیں۔
کسی زمانے میں ملتان شہر میں اس کی بڑی بڑی بازیاں لگتی تھیں دور دور سے لوگ ان لاٹو بازیوں کو کھیلنے اور دیکھنے آیا کرتے تھے۔سب سے زیادہ لاٹو بنتے بھی ملتان شہر کے ایک علاقے حرم گیٹ میں ہی تھے۔
حرم گیٹ میں اگر آپ داخل ہوں تو بالکل سیدھا بازارِ حسن ہے ۔سننے میں آیا ہے کہ اپنا انٹر نیٹ والا بیلا پہلوان بھی وہیں کا ہے۔دائیں ہاتھ کو لوہاری گیٹ کی طرف راستہ جاتا ہے اور بائیں ہاتھ پر لاٹوؤں کے استادوں کی دکانیں تھیں۔جن میں تین بڑے استاد ، مستانہ ، دیوانہ اور پوستی نام کے تھے۔اور ان کے لاٹو بھی انہیں کے ناموں سے منسوب بھی تھے۔
مستانہ لاٹو کو جب چھوڑا جاتا تھا کہ جانو گھنٹہ بھر تو گرے گا نہیں اور سبک رفتار اتنا تھا کہ بنانے والے پر رشک آتا تھا۔آخری وقت میں تو اس کی چال ایسے ہوتی تھی کہ اب گرا کہ اب گرا ، مگر گرتے گرتے بھی پانچ منٹ کھا جاتا تھا۔
اس کے برعکس دیوانہ لاٹو شروع سے ہی بہت تیز رفتاری سے گھومتا تھا اپنے نام کی مناسبت سے لگتا سب کو ایسا ہی تھا کہ اس کی دیوانگی کبھی رکنے کی نہیں مگر گرتے وقت اس کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کب گرا۔
پوستی لاٹو ، اپنے نام کی طرح عجیب چال پے گھومتا تھا ، پھینکتے ہی یوں محسوس ہونا شروع ہوجاتا تھا کہ جیسے تھم سا گیا ہو ،دکھائی ہی نہیں دیتا تھا کہ گھوم بھی رہا ہے یا نہیں ، لگتا یوں ہی تھا جیسے زمین پر کوئی چیز چمٹی ہوئی ہو ۔خوب چال تھی اس کی بھی۔
لاٹو کوئی بھی ہو آخر گھومتا ہی ہے اور اگر لاٹو مستانے ، دیوانے اور پوستی جیسا ہو تو گھومنے کے ساتھ جھومتا بھی ہے ۔
دیکھا جائے تو انسان بھی ایک لاٹو ہی ہے ، فرق صرف اتنا سا ہے کہ یہ لاٹو اپنے ہی بنائے ہوئے خود ساختہ مدار میں گھوم رہے ہیں۔اور اگر یہ اسی طرح گھومتے رہے تو دیکھنا آخر یہ ایک دن ضرور گر پڑیں گے۔



ہر لمحہ تازہ ترین اردو راکٹ