صفحات

ہفتہ، 26 اگست، 2006

جَلا دو ۔ گِرا دو ، مار ڈالو

اصول و ظوابط نہ جانے کہاں کھو گئے ، قانون کی پاسداری کا بھی خیال نہیں ، لاٹھی ہے تو ہانکے چلے جاؤ ۔ گولی ہے تو مار ڈالو ، خنجر ہے تو گھونپ دو ، تو پھر توپ داغنے میں بھی ڈر کیسا۔
انسانی قدریں جانے کہاں کھو گئیں مگرسنو تو حقوقِ انسانی کی بازگشت چارسُو گونج رہی ہے اور اس گونج میں انسان کی بے بسی صاف دیکھی جاسکتی ہے۔
خوف پھیلتا جا رہا ہے ، اندھیرا ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے ، کچھ قربان ہورہے ہیں تو کچھ قربان کر رہے ہیں اور کچھ اس تماشے کودیکھ رہے ہیں۔تماشا دیکھنے اور کرنے والوں کا اصطبل ایک ہی ہے دونوں ہی اپنے نشے میں مست ہیں۔اور یہ مستی ابھی اور رنگ دکھائے گی جس کا رنگ بھی گہرا ہوگا۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں