صفحات

منگل، 29 اگست، 2006

اکبر بگٹی کی شخصیت پر ایک نظر

اکبر بگٹی نے ایک انٹرویو میں اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستان ختم ہو گیا تو بلوچستان کی تجاویز یہ ہیں،
١۔ عظیم تر چھوٹا بلوچستان
٢۔ بلوچستان ، سندھ اور ڈیرہ غازی خاں کے ادغام سے ایک آزاد مملکت
٣۔ بلوچستان ، پختونستان اور افغانستان کے تین ممالک کی کنفیڈریشن
٤۔ سوویت ری پبلک آف بلوچ
افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء اور روس کی ٹوٹ پھوٹ سے پہلے اکبر بگٹی کا خیال کچھ اور تھا تاہم بعد میں ان کا یہ خیال بنا کہ مذکورہ تمام تجاویز میں سے سوویت ری پبلک آف بلوچ والی تجویز کی بجائے باقی تمام تجاویز پر عمل پیرائی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔
ایک باخبر ذریعہ کے مطابق وفاقی حکومت سے سوئی گیس کی رائلٹی کے نام پر نقد اور سہولتوں کے حوالے سے تقریباً ٢٥ کروڑ روپے سالانہ وصول کرنے والے نواب اکبر بگٹی سوئی میں ہونے والے فوجی اپریشن کے خلاف متحرک تھے۔
بلوچستان میں بم دھماکوں ، گیس پلانٹ اور ایف سی کے قافلوں پر حملوں کا ذمہ دار ملک دشمن عناصر کے ساتھ ساتھ بگٹیوں کا بھی ہاتھ تھا۔

نواب اکبر بگٹی ١٠ جولائی ١٩٢٧ کو پیدا ہوئے۔ان کا اصلی نام شہباز خان تھا جو ان کے دادا کے نام پر رکھا گیا لیکن وہ اکبر بگٹی کے نام سے مشہور تھے۔ابھی وہ چھوٹے تھے کہ ان کے والد نواب صحراب خان کا انتقال ہو گیا۔١٩٣٩ میں جب اکبر بگٹی کی عمر ١٢ سال کی تھی تو انہیں قبیلے کا سردار بنا دیا گیا۔لیکن بلوچستان کی روایت کے مطابق سردار کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لئے ٢٠ سال کی عمر ضروری تھی۔لہذا اس عمر تک پہنچنے کے لئے میر جمال خان بگٹی کو سردار مقرر کر دیا گیا۔
١٩٤٧ میں نواب اکبر بگٹی نے قبیلے کے سردار کی حثییت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ابتدائی تعلیم انہوں نے کوئٹہ ، کراچی اور ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی۔١٩٤٣ میں بقول اکبر بگٹی کے کانگرس کی تحریک سے متاثر ہو کر انہوں نے ہیٹ اور ٹوپیاں جلا دیں اور گاندھی ٹوپی پہن لی۔١٩٤٧ میں ریفرنڈم ہوا اور اکبر بگٹی نے تحریک پاکستان میں حصہ نہیں لیا۔ کیونکہ بقول ان کی عمر کم تھی ۔
ایوب خان کے دور میں ان پر اپنے چچا ہیبت خان کے قتل کا کیس بنا اور ایک فوجی عدالت نے انہیں سزائے موت سنائی تاہم بعد میں سزا ختم کر کے انہیں رہا کر دیا گیا۔
سیاست میں قدم رکھنے کے بعد اکبر بگٹی اعلیٰ عہدوں پر بھی براجمان رہے۔رکن اسمبلی اور صوبے کے وزیراعلیٰ بھی رہے۔
اکبر بگٹی ١٩٥٨ میں سیاست میں داخل ہوئے اس وقت سکندر مرزا نے انہیں وفاقی کابینہ میں شامل کیا لیکن ان کی اصل ہنگامہ خیز سیاست کا دور ١٩٧٠ سے شروع ہوا۔١٩٧٠ کے انتخابات مین اکبر بگٹی نے حصہ نہیں لیا۔١٢ فروری ١٩٧١ کے اخبارات میں ان کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی کہ اکبر بگٹی شیخ مجیب الرحمن سے ملنے ڈھاکہ پہنچے ہیں۔یہاں دونوں لیڈروں نے آئین سازی کے اہم معاملات پر گفت و شنید کی۔بعد میں شیخ مجیب نے کہا لہ چھ نکاتی پروگرام صرف بنگلہ دیش کے لئے نہیں بلکہ بلوچستان اور دیگر صوبوں کے لئے بھی ہے اور اکبر بگٹی نے مجھ سے سو فیصد اتفاق کیا ہے۔
٣ سمبر ١٩٧١ میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مغربی پاکستان میں اصغر خان واحد سیاستدان تھے جنہوں نے فوراً بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح ہم روٹھے بھائیوں کو منا سکتے ہیں۔اکبر بگٹی اس موقع پر اچانک تحریک استقلال کے پلیٹ فارم پر نظر آئے اور ١٨ جنوری ١٩٧٢ کو نشتر پارک کے جلسہ میں لوگوں نے انہیں دیکھا جس کی صدارت بگٹی نے ہی کی تھی۔
١٥ مارچ ١٩٧٢ کو وزیراعظم بنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو روس کے دورے پر روانہ ہوئے تو سیاسی حلقوں بڑی حیرانگی ہوئی کہ وہی اکبر بگٹی جو ایک ماہ پہلے تک بھٹو کے شدید مخالف تھے وہ بھٹو کے سرکاری وفد میں کیسے شامل ہیں۔بگٹی اس وفد کے ساتھ واپس نہیں آئے اور انہوں نے روس میں ہی رہنے کو ترجیح دی اور وہاں سے وہ پھر برطانیہ چلے گئے اس دوران انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان کے خلاف بات کرتے ہوئے آزاد بلوچستان اور بھارت کے ساتھ کنفیڈریشن کی بات کی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

3 تبصرے:

  1. زبردست لکھتے ہیں آپ۔۔۔۔۔
    ایک میرا سوال یہ تھا کہ میں آپ کے جیسا بلاگ کیسے بنا سکتا ہوں یا مجھے کہیں سے بلاگ کا بہترین اردو ٹمپلیٹ مل سکتا ہے چاہے وہ بلاگسپاٹ کا ہو یا ورڈپریس کا۔۔۔؟

    براہ مہربانی ضرور جواب دیجئیے؟؟؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. شکریہ جناب عادل صاحب
    یہ بلاگ بڑے بھائی پردیسی نے بنا کر دیا ہے۔اگر آپ بھی بنوانا چاہتے ہیں تو انہیں میل کر دیں وہ بنا دیں گے۔وہ کسی کو انکار نہیں کرتے۔ان کا میل ایڈریس یہ ہے
    hadaaya@yahoo.com
    hadaaya@gmail.com

    جواب دیںحذف کریں