صفحات

ہفتہ، 7 اکتوبر، 2006

خاموش ہو جائیں

کل الصبح ہمارے پاکستان میں پچھلے سال زلزلے میں مرنے والوں کے غم اور بچ جانے والوں کی خوشی میں سائرن بجائے جائیں گے اور مکمل پورے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی۔آپ سب سے بھی التماس ہے کہ خاموشی اختیار کریں۔
دیارِ غیر میں رہنے والوں نے نے اپنے خون پسینے کی جو کمائی ان بچنے والوں کے نام بھیجی تھی وہ بھی خاطر جمع رکھیں اور خاموش رہیں کیونکہ ان کی کمائی پاکستان کی تعمیر و ترقی میں خرچ ہوگی۔

پاکستان میں رہنے والوں سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ زلزلہ زدگان کے پھٹے ہوئے خیموں کے درمیان جا کر خاموشی اختیار کریں تاکہ بچ رہنے والے ان کی خاموشی سے سبق سیکھ سکیں۔

اتوار، 1 اکتوبر، 2006

اردو بلاگرز

ویسے تو سارے اردو بلاگرز اپنی مثال آپ ہیں اور سب کی تحریریں لاجواب بھی ہوتی ہیں مگر ان میں سے کچھ بلاگرز کی تحریروں کو میں ذاتی طور پر پسند کرتا ہوں ۔ ان میں سے خاور کھوکھر ، افضل صاحب ( میرا پاکستان والے ) افتخار احمد بھوپال ، اردو دان اور بدتمیز اول ( ایم ایس این سپیس والے ) قابلِ ذکر ہیں۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ باقی اردو بلاگرز کی تحریروں کو میں پسند نہیں کرتا مگر قابلِ ذکر بلاگرز کی تحریروں میں ایک علیحدہ چاشنی ہے۔ان کی سب تحریروں میں کوئی نہ کوئی پیغام ہوتا ہے کہ بندہ سوچتا رہ جائے اور خود کو نوچتا بھی۔
بدتمیز اول اور خاور کھوکھر کی حالیہ تحریریں پڑھیں لطف آ گیا۔خاصی تلخ تحریریں تھیں کوشش کی کہ دونوں کے بلاگ پر جا کر تبصرہ بھی کروں مگر دونوں کے بلاگ میری پہنچ سے باہر تھے۔بلاگ سپاٹ اب پی کے بلاگ سے بھی نہیں کھلتا شاید کہ پاکستان میں اس پراکسی کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔اور ایم ایس این سپیس میرے جیسے غریب آدمی کے براؤزر کو ویسے ہی بلاک کر دیتی ہے۔
میرا ان دونوں دوستوں اور دوسرے بلاگ سپاٹ والے دوستوں کو یہ مشورہ ہے کہ برائے مہربانی کچھ پیسے ویسے خرچ کر کے اپنا کوئی انتظام کریں۔تاکہ ہم جیسے لوگوں کا بھلا ہو کیونکہ آپ ہیں کہ آپ سب دوستوں کو اس چیز کا احساس ہی نہیں ہے کہ آپ کی تحریروں کو پڑھنے کے لئے کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں۔ویسے آپس کی بات ہے کہ اتنے جتن تو ہم نے کبھی کسی حسینہ کو منانے کے لئے نہیں کئے۔