صفحات

بدھ، 22 نومبر، 2006

میرے للو کی باتیں

لَلو ، ابے او لًلو ، اگر بازار جاوے گا تو ذرا سبزی تو پکڑتے لانا۔
صاحب جی آج کیا پکاویں گے ؟
ارے پکانا کیا ہے جو تجھے سب سے سستی ملے ، وہ لے آ ، بس کھا لیویں گے۔
پر صاحب جی آج کل بینگن بھی ٢٠ روپے کلو بکے ہیں اس سے سستا کیا ہووے گا اور کل وہ سبزی والا بھی کہہ رہا تھا کہ اپنے صاحب سے کہیو کہ کلو دو کلو پیاز خرید کر رکھ لیویں ، آج چالیس کا ریٹ ہے کل پچاس میں ہوویں گا۔
دفعہ کر سالے کو ، وہ تو یوں ہی ڈراوے ہے ، تو بس کوئی بھی لے آ ، بس ہووے سستی سی ۔ اچھا ایک بات تو بتا لًلوے ، تیرے سے اس لئے پوچھوں کہ تو پڑھا لکھا نہیں ہے اگر پڑھا لکھا ہوتا تو ، تو بھی اسمبلیوں میں بیٹھا ہوتا۔اور سیاسی بیان دیتا،
ہاں تو بتا للوے ، یہ روز روز غریبوں کی چیزیں ہی کیوں مہنگی ہوویں ۔روزانہ ہی سننے میں آوے ہے کہ ، چینی مہنگی ہو گئی ، دال مہنگی ہوگئی ،سبزی ہے تو وہ مرغے سے بھی مہنگی بکے ہے یہ سب کیا ہے للوے ؟
صاحب جی یہ سب وزیروں مشیروں کا گورکھ دھندا ہے ۔ فیکٹریاں ان کے پاس ہیں ، آڑھت پر ان کا قبضہ ہے جب ان کا جی چاہتا ہے وہ چیزیں مہنگی کر دیتے ہیں۔
مگر للوے یار وہ اپنا صدر صاحب بھی تو بیٹھا ہے نا وہ ان کی کیوں پکڑ نہیں کرتا؟
صاحب جی نام تو میرا للو ہے مگر آپ بھی کم نہیں لگے ہو۔
صاحب جی اگر وہ پکڑ کرے گا تو اپنی کرسی کیسے چلاوے گا۔
مگر للوے یار ، استاد شیدا تو کہوے ہے کہ کرسی تو امریکہ چلائے ہے ، وہ بھی تو تیری طرح پڑھا لکھا نہیں ہے نا تو پھر اس کی بات تو جھوٹ نہ ہووے
صاحب جی شیدا جو جی چاہے کہتا روے مگر میں تو یہ کہوں کہ اگر اس نے ان کا دانہ پانی بند کیا تو جانو یہ سارے مل کے اس کا بھی بند کر دیویں گے۔
مگر یار للوے اس چکر میں دانہ پانی اپنے پہ تو بھاری ہو گیا نا۔
تو ہوا کرے صاحب جی ، ویسے بھی غریبوں کے مرنے سے کونسا فرق پڑے ہے۔

ہفتہ، 18 نومبر، 2006

روشن خیال مجرے

آج سوچا تھا کہ کچھ لکھوں گا ، کیا دیکھتا ہوں کہ میرا پاکستان والے جناب افضل صاحب نے لاہور کے ایک ناظم میاں محمود کی ایک طوائف کے ساتھ تصویر کو موضوع سخن بنایا ہے۔
لکھتا بھی ، تو کیا لکھتا ، ساری سوچیں غائب ہوگئیں ، کبھی جناب افضل صاحب کی تلخ اور تیکھی تحریر کو پڑھتا اور کبھی ناظم میاں محمود کی تہذیب یافتہ انداز میں کھنچوائی تصویر کو دیکھا کیا۔
جناب افضل صاحب بھی بھولے بادشاہ ہیں ، باہر رہ کر وہ اسی پرانے پاکستان کی تصویر کو اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں جس کو کبھی وہ چھوڑ کے گئے تھے۔انہیں نہیں پتہ کہ پاکستان اب ترقی پذیر ملکوں کی فہرست سے نکل کر ترقی یافتہ اور روشن خیال ہو چکا ہے۔
سوچتا ہوں کہ اب جب وہ پاکستان آئے تو انہیں اپنے پاس بٹھا کر کیبل دکھاؤں گا جو ہر گھر میں چل رہی ہے۔جس پر روزانہ ننگے مجرے دھڑلے سے دکھائے جاتے ہیں۔دوپہر ہو یا رات کا کوئی پہر ، یہ ننگے مجرے سٹیج شو کے نام سے کیبل پر آپ کسی بھی وقت دیکھ سکتے ہیں ۔روشن خیالی کی روایات کو مدِ مظر رکھتے ہوئے رات کے آخری پہر ان مجروں میں کپڑوں کی پابندی ختم کر دی جاتی ہے۔

محترم افضل صاحب نے اس خبر کو بڑی گروانا ہے ، کہتے ہیں اس خبر کے چھپنے کے باوجود اگر ملک میں بھونچال نہ آسکا تو وہ سمجھیں گے کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عوام بھی ایسی ذلالتوں کے عادی ہوچکے ہیں۔

کیا کریں عوام ؟ کس سے فریاد کریں ؟ کس عدالت میں فریاد کریں ؟
بھونچال کون لائے گا ، جن کے پاس کھانے کو نہیں ؟
بھونچال کون لائے گا ، وہ جو صرف فتویٰ دینا جانتے ہیں
بھونچال کون لائے گا ، جو خود اسٹیج پر بیٹھ کر مجرا دیکھتے ہیں ؟
وہ زمانے لَد گئے جب چیخ و پکار سے بھونچال آیا کرتے تھے۔
ایسے نہیں آنے کا بھونچال ،
جب تک بھوکے ننگے لوگ ( جو تن اور من سے بھی بھوکے ہو چکے ہیں ) سچے دل سے اپنے رب سے معافی اور روشن خیالی کو ٹھوکر نہ ماردیں تب تک بھونچال آنے سے رہا ۔

بدھ، 15 نومبر، 2006

کسی کو تو جواب دینا ہے

اپنا جگر جان خاور کھوکھر پوچھتا ہے،
دو انتہاؤں پاکستانی سید اور پاکستانی چوہڑے کی جسمانی ساخت کو علحیدہ کرنے کا فارمولا ہے کسی کے پاس ؟
ہے بالکل ہے ، میرے پاس ہے ۔چوہڑا چاہے گند کی ٹوکری اٹھاتا پھرے اگر اس کی سوچ ، ذہن اچھا ہو گا توسید جیسا لگے گااور سید چاہے عطر میں نہایا ہو اگر اس کی سوچ ، اس کا کردار اچھا نہیں ہو گا تو وہ چوڑے سے بھی بدتر دکھائی دے گا۔

خاور جگر ، کسی کو احساس کمتری ہوتا ہے اور کسی کو احساس برتری ، ذات پات ، برادری سسٹم یہ سب گاؤں ( پنڈوں ) کی روایات ہیں ۔اپنا نام یا اپنی ذات بڑی رکھنے سے انسان میں بڑا پن پیدا نہیں ہوتا۔بڑا پن اس کے اچھے ذہن ، سوچ اور کردار سے بنتا ہے۔اور یہ اچھا کردار چاہے چوڑا ادا کرے یا کہ سید ۔

جگر جانی ، جسمانی ساخت کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، ذہنی ساخت کی بات کیجیے ، لولا ، لنگڑا ، اندھا ، کانا ، اپاہیج ، کھسرا یہ سب شہنشاہوں کے گھروں میں بھی پیدا ہوئے اور غریبوں کے گھروں میں بھی۔

ہم مسلمانوں میں تو ویسے بھی ذات پات ، گورے کالے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔یہاں تو اعمال ، کردار کی بات ہے ۔جن جن کے اعمال و کردار اچھے ہوں گے وہی اعلیٰ ہوگا۔باقی ذات میں ، اپنی جسمانی ساخت میں کو ئی کیسا ہی بڑا یا خوبصرت دکھائی دے اس کی کوئی حثیت نہیں۔

آپ نے پوری دنیا گنوا دی مگر پھر بھی آپ اپنے گاؤں کے حصار سے باہر نہیں نکل سکے ۔ یہ احساس کمتری ہے آپ کا ، اپنی اُس ذات پات کے حصار سے باہر نکلو جگر جان ، جس میں آپ باہر رہتے بھی الجھے ہوئے ہو۔دنیا ذات پات سے بہت دور جاچکی ۔

گیسوئے تاب دار کو

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر ، قلب و نظر شکار کر
عشق بھی ہو حجاب میں ، حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
تو ہے محیط بے کراں ، میں ہوں ذرا سی آبجو
یا مجھے ہمکنار کر یا مجھے بے کنار کر
میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو
میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہر شاہوار کر
نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دم نیم سوز کو طائرک بہار کر
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے ، اب مرا انتظار کر
روز حساب جب مرا پیش ہو دفتر عمل
آپ بھی شرمسار ہو ، مجھ کو بھی شرمسار کر

جمعرات، 9 نومبر، 2006

کالو کے نام کھلا خط

بیوقوف کہتے ہیں کہ پاگلوں کے سر پر سینگ ہوتے ہیں مگر بابے عیدو کا تجربہ ہے کہ سینگوں کے بغیر بھی پاگل دیکھے جا سکتے ہیں۔
بندہ پوچھے کہ بھئی جو لوگ آزاد رہنا چاہتے ہیں تو آپ کون ہوتے ہو ان پر پابندی لگانے والے وہ جو جی چاہے کریں ، کیا لگتے ہیں وہ آپ کے اور کیا آپ نے سارے انٹر نیٹ کا ٹھیکہ لے لیا ہے
کوئی گندی ویب سائٹ بنانے کے لئے تحریک دے یا کوئی اسے بنانے کی ہامی بھرے ۔ کیا رشتہ داری ہے آپ کی جو ان کو روکنے کی باتیں کرتے ہو۔
دیکھو میرے پیارے کالو جانی ، ایسا نہیں چلتا یارا،کیا تم بی بی سی والوں کو روک سکتے ہو جنہوں نے حال ہی میں ایک سیکس کی نئی سیریز شروع کی ہے۔اگر یہ لوگ بھی اسی طرح مغربی دھارے میں بہہ کر اسی جیسا طرز عمل اپنانا چاہتے ہیں تو تمہارا کیا جاتا ہے، اپنانے دو انہیں ، ان کو بھی اسی گنگا میں ہاتھ دھونے دو جسے یہ اجلا جانتے ہیں۔
اور پھر میرے جانی ، نگار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے یا تو پھر آپ کے ہاتھ میں کوئی طوطا ہو تو میں جانو کہ واقع میں آپ کچھ سدھار لا سکتے ہو ( میری یہاں مراد طوطا فال نکالنے والے طوطے سے ہے) ، جب جانی تمہارے پاس ایسا طوطا ہی نہیں تو یارا کیوں اپنی جان کھپاتے ہو۔
بھئی محفل ان کی ، باتیں ان کی اور لکھائی بھی ان کی ،آپ کون بیچ میں خوامخواہ ۔ اور پھر کالو جانی انہوں نے کوئی آپ کو دکھانے کے لئے تھوڑی کھولنی ہیں گندی ویب سائٹ ، ان کا شوق ہے پورا کرنے دو۔کیوں لگاتے ہو یارا ان کے شوق پر پہرے۔
میں مانتا ہوں میرے کالو جانی کہ یہ سب برا ہے مگر یارا یہ بھی تو دیکھو ، یہاں کیا برا نہیں ہے ، کیا آپ لوگوں کے دل و دماغ تبدیل کر لو گے ، کیا ایسے لوگوں کے ذہن میں ایسی باتیں ٹھونس دو گے جنہیں مذہب اسلام کے بارے میں مکمل آگاہی ہی حاصل نہیں کہ اسلام میں کیا برا ہے اور کیا اچھا۔
میری مانو تو چھوڑو ، دفع کرو ، ۔ کوئی اپنا اصلاحی کام شروع کرو ۔ ان کو ان کے حال میں کھلا چھوڑ دو۔یہ جو آپ کو بند ڈبے میں نظر آرہی ہے نا دنیا ، یہ اب بھی بہت وسیع ہے اور اس وسیع نگار خانے میں تمہارے لائق کرنے کے کام اور بھی ہوں گے ۔
میری بات پلے باندھ لو کہ ، تنقید ، اچھی تنقید ( میری مراد یہاں بری تنقید سے نہیں ہے ) ان پر ہی اثر کرتی ہے جو اُس کا اثر قبول کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں ۔اور جو اہلیت نہیں رکھتے ان پر صرف تعریف اثر کرتی ہے۔

ذہن کو ٹھنڈا رکھا کرو کالو جانی ، جب ذہن ٹھنڈا ہو گا تو بات بھی ٹھنڈی نکلے گی اور یاد رکھنا ٹھندی بات اگلے کے سینے میں چبھتی ضرور ہے ۔

ہفتہ، 4 نومبر، 2006

وہ اک شخص جو چلا گیا

ایک نہایت ہی شریف ، ملنسار ، غریبوں کا ہمدرد ، کئی خیراتی اداروں کو چلانے والا حافظ قرآن جس کی کسی سے بھی دشمنی نہ تھی اسے پرسوں اس کے اپنے ہی نئے سیکورٹی گارڈ نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
سیٹھ عابد کے لختِ جگر حافظ ایاز محمود کی شخصیت یوں تو بہت سی خوبیوں سے بھری ہوئی تھی مگر ایک خوبی ان سب میں بڑی تھی کہ اتنا امیر آدمی ہونے کے باوجود بھی اس میں غرور نام کی کوئی چیز نہ تھی۔جس سے ملتا ہمیشہ عاجزی کے ساتھ ۔دشمن اس کا کوئی نہ تھا۔غریب ہو یا امیر سب سے دوستانہ انداز میں گفتگو کرتا۔لڑائی جھگڑے سے کوسوں دور رہتا۔میں نے نہیں دیکھا کبھی اس نے اونچی اواز سے بات بھی کی ہو، بولتا تو دھیمے لہجے سے لگتا جیسے منہہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔
ہر سال رمضان میں تراویح پڑھاتا،ملک سے باہر ہوتا تو تب بھی وہ رمضان میں میں پاکستان ضرور آجاتا۔اس سال بھی اس نے تراویح پڑھائی تھی۔مگر آنے والا سال اس کی قسمت میں نہیں تھا۔
لٹ گیا وہ اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں
شہید ہو گیا کیونکہ اس کا گناہ کوئی نہ تھا
چلا گیا وہ اللہ کے پاس جس کی وہ بندگی کرتا تھا
انا للہ و انا علیہ راجعون
دعا ہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین