صفحات

بدھ، 15 نومبر، 2006

کسی کو تو جواب دینا ہے

اپنا جگر جان خاور کھوکھر پوچھتا ہے،
دو انتہاؤں پاکستانی سید اور پاکستانی چوہڑے کی جسمانی ساخت کو علحیدہ کرنے کا فارمولا ہے کسی کے پاس ؟
ہے بالکل ہے ، میرے پاس ہے ۔چوہڑا چاہے گند کی ٹوکری اٹھاتا پھرے اگر اس کی سوچ ، ذہن اچھا ہو گا توسید جیسا لگے گااور سید چاہے عطر میں نہایا ہو اگر اس کی سوچ ، اس کا کردار اچھا نہیں ہو گا تو وہ چوڑے سے بھی بدتر دکھائی دے گا۔

خاور جگر ، کسی کو احساس کمتری ہوتا ہے اور کسی کو احساس برتری ، ذات پات ، برادری سسٹم یہ سب گاؤں ( پنڈوں ) کی روایات ہیں ۔اپنا نام یا اپنی ذات بڑی رکھنے سے انسان میں بڑا پن پیدا نہیں ہوتا۔بڑا پن اس کے اچھے ذہن ، سوچ اور کردار سے بنتا ہے۔اور یہ اچھا کردار چاہے چوڑا ادا کرے یا کہ سید ۔

جگر جانی ، جسمانی ساخت کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، ذہنی ساخت کی بات کیجیے ، لولا ، لنگڑا ، اندھا ، کانا ، اپاہیج ، کھسرا یہ سب شہنشاہوں کے گھروں میں بھی پیدا ہوئے اور غریبوں کے گھروں میں بھی۔

ہم مسلمانوں میں تو ویسے بھی ذات پات ، گورے کالے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے ۔یہاں تو اعمال ، کردار کی بات ہے ۔جن جن کے اعمال و کردار اچھے ہوں گے وہی اعلیٰ ہوگا۔باقی ذات میں ، اپنی جسمانی ساخت میں کو ئی کیسا ہی بڑا یا خوبصرت دکھائی دے اس کی کوئی حثیت نہیں۔

آپ نے پوری دنیا گنوا دی مگر پھر بھی آپ اپنے گاؤں کے حصار سے باہر نہیں نکل سکے ۔ یہ احساس کمتری ہے آپ کا ، اپنی اُس ذات پات کے حصار سے باہر نکلو جگر جان ، جس میں آپ باہر رہتے بھی الجھے ہوئے ہو۔دنیا ذات پات سے بہت دور جاچکی ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں