صفحات

ہفتہ، 22 ستمبر، 2007

لِلی ڈیزی اور نگینہ

اپنے چوہدری کے عشق کی داستانوں سے پہلے اگر میں نے آپ کو لِلی ، ڈیزی اور نگینہ کے حسن کے بارے میں کچھ نہ بتایا تو میرے خیال میں یہ ان کے حسن کے ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ اس زمانے میں اگر آپ لاہور کے پوش علاقوں میں چلے جاتے ( یاد رہے کہ اس وقت لاہور کے پوش علاقے صرف ماڈل ٹاؤن اور گلبرگ ہی تھے) تو وہاں کے رہنے والے کاؤ بوائے قسم کے لڑکے ہمارے چھوٹے سے علاقے کو لِلی ڈیزی کے گھر کی وجہ سے جانا کرتے تھے۔دروغ برگردن راوی ویسے تو ہمارا علاقہ ایسی حسین پریوں سے بھرا پڑا تھا جن کے چرچے ہر سو تھے مگر چونکہ اس وقت بات اپنے چوہدری کی مناسبت سے ہورہی ہے اس لئے فی الوقت ان کا ذکر کرنا ضروری نہیں جانتا۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ جوں جوں ذہن کا زنگ اترتا چلا جائے گا عشق کے چرچے بھی عام ہوں گے اس لئے خاطر جمع رکھئے۔

لِلی گھر میں سب سے بڑی تھی ،خوبصورت گاؤ ماتا جیسی بڑی بڑی آنکھیں ،ملائی جیسی سفید رنگت ، ستواں سا ناک اور خوبصورت ہونٹوں پر ہر سمے مسکراہٹ لئے ہوئے جہاں سے ایک دفعہ گذر جاتی تھی لوگ دل تھام لیا کرتے تھے۔اپنے چویدری سے دو چار برس ہی بڑی ہوگی جبھی تو چوہدری کو باجی جیسی دکھائی دیتی تھی۔اپنے چوہدری کی اعلیٰ ظرفیوں میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جہاں چوہدری کی بات نہ بن پاتی وہاں وہ لڑکی کو بہن بنا لیا کرتا تھا۔

ڈیزی ، لِلی سے چھوٹی تھی مگر حسن میں لِلی سے بھی ایک ہاتھ آگے ، لگتا یوں تھا جیسے کوئی رانی جیسی ہو ،عجیب سا حسن جو سب کو اپنی جانب کھنچے جا رہا ہو،جو کوئی ایک دفعہ دیکھ لیتا بس اسی کا ہو رہتا۔سوچتا ہوں شاید ہمارے لڑکپن سے جوانی میں داخل ہونے کا دور تھا شاید اس لئے اس وقت ہمیں وہ اتنی خوبصورت دکھائی دیتی تھی کیونکہ سیانے کہتے ہیں کہ یہ ایسا دور ہوتا ہے جب آپ کو گدھی بھی خوبصورت دکھائی دیتی ہے۔مگر ایسا نہیں تھا ، سچ پوچھیں تو آج بھی ان کا چہرہ اگر آنکھوں کے سامنے آ جائے تو خال خال ہی ایسا حسن دیکھنے کو ملتا ہے۔

نگینہ، دونوں سے چھوٹی تھی ، بالکل اپنے نام جیسی ، شاید ماں باپ نے اس کا نام بھی اس کے حسن کی مناسبت سے ہی رکھا ہوگا۔دونوں بہنوں سے تھوڑا زیادہ حسین ، ناک میں سیاہ دھاگہ پہنے کوئی اپسرا دکھائی دیتی تھی۔

اپنے چوہدری کا دل ان تینوں میں سے صرف ڈیزی پر ہی آیا ، لِلی بڑی تھی اور نگینہ چھوٹی ، یہ چوہدری کا ہمارے سامنے دوسرا یکطرفہ عشق تھا، یکطرفہ اس لئے کہ قسم لے لیں جو ڈیزی نے ایک دفعہ بھی اپنے چوہدری کو نظر بھر بھی دیکھا ہو ،اپنا چوہدری “ انڈر ففتھ انڈر فور ، تھڑے توڑ “ کے مصادق اور کہاں گاڑیوں کی لائینیں جو ڈیزی کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بیتاب ۔مگر اپنا چوہدری بھی بڑی ڈھیٹ شے تھا، بڑی پتنگیں پھیکیں اس کی چھت پہ مگر مجال ہے جو اس نے چوہدری کو جھلک بھی دکھائی ہو۔
دن بییتتے گئے ، چوہدری کا عشق جنون میں تبدیل ہوتا گیا ، گھنٹوں گیٹ کے باہر کھڑا رہتا کہ کب کالج سے آئے گی اور کب شکل دیکھوں گا اور جب دیکھ لیتا تو سارا دن لوگوں سے ہنس ہنس کے ملتا، مجھے یاد ہے کہ جس دن کالج کی چھٹی ہوتی یا وہ کالج نہ جاتی تو ایسے کاٹنے کو دوڑتا کہ بس نہ پوچھیں۔
ایک دن چوہدری سگریٹ پھونکتے ہوئے کہنے لگا کہ یار شیخو، میں کیسا لگتا ہوں ، میں ہنسنے لگا اور کہا ، کیوں چوہدری آج تجھے یہ خیال کیسے آگیا ، کہنے لگا یار یہ ڈیزی گھاس نہیں ڈالتی ، کس چیز کی کمی ہے مجھ میں، میں نے کہا چوہدری بات کمی کی نہیں ہوتی ، دل کی ہوتی ہے اگر تیرا دل کسی چوڑی پر آسکتا ہے تو اس کا دل بھی کسی پر آسکتا ہے ، پیار میں کسی پر کوئی زور تھوڑا ہی ہوتا ہے ۔یہ دل کے معاملے ہیں چوہدری ، تو کیا جانے تو تو بھوک مٹانے کے چکر میں ہے۔لگا قسمیں کھانے کہ میں سچا پیار کرتا ہوں ، میں نے کہا چھوڑ یار میں جانتا ہوں یہ سچا پیار اپنے بس کی باتیں نہیں ہیں ، دفع کر تو ڈیزی کو ، کہیں اور دیکھ ، چوہدری لمبی ہوں کر کے پھر سگریٹ پھونکنے لگا۔
اچھا چوہدری ایک بات تو بتا یہ جو تمہارے پیچھے رہتے ہیں ان کے بارے میں کیا خیال ہے تیرا ، کون یہ دھوبی ، ارے نہیں یار ، کالی سی تو ہے۔ ابے چوہدی کالی ہے تو کیا ہوا نین نقش تو اچھے ہیں نا۔میرا خیال ہے بات بن جائے گی ۔ ارے نہیں یار شیخو مجھے تو بس ڈیزی پسند ہے۔

ابھی تھوڑا ہی عرصہ گذرا تھا کہ ۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 19 ستمبر، 2007

چوہدری کی بیٹھک

اپنے چوہدریوں کا بھی کیا کہنا، عجیب مخلوق ہوتے ہیں یہ بھی، ان پہ لکھنے بیٹھو تو سیاہی بھی نیلی سے کالی دکھائی دے۔اپنا ناطہ بھی چوہدریوں سے خاصا رہا ہے ، صفِ نازک ہو یا کلغی والا دونوں کی فطرت ایک جیسی ہی دکھائی دے گی۔ایک زمانے میں اپنا بھی اک یار چوہدری بن بیٹھا۔ہم نے شروع میں بڑا سمجھایا کہ یارا آرائیں فیملی سے ہو تو ملک کہلوایا کرو مگر وہ بھی ایسا کایاں انسان تھا کہ مانو تو الؤ ہی بڑا۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ملکوں کی کسی خاص بات سے خائف ہی ہو تبھی تو چوہدری کہنے سے اپنا سینہ ایک آدھ انچ پھُلا لیا کرتا تھا۔
اندھے کو کیا سوجھیں ، دو آنکھیں کے مصادق اپنے چوہدری صاحب کی فیملی میں سے ایک بدیس جا بسا اور بدیسی ملک بھی اگر امریکہ جیسا ہو تو آنکھیں کھل ہی جاتی ہیں۔قسمت اچھی تھی کہ اپنے چوہدری صاحب کی فیملی بھی اسی کے طفیل بدیسی ہوگئی۔
محبت کے معاملے میں بھی کچھ لوگ چوہدریوں کی مثال دیتے نظر آتے ہیں اور کچھ تو مجنوں کو بھی چوہدری گروانتے ہیں اب اس میں کتنی صداقت ہے یہ تو لیلیٰ ہی بہتر جانتی ہوگی۔ویسے اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں تو اپنے چوہدری کی مثال کو مدِ نطر جانتے یہی کہوں گا کہ مجنوں واقع میں چوہدری ہی ہوگا۔
ویسے آپس کی بات ہے کہ مجنوں کو اپنے چوہدری سے تشبیہ دینا مجھے تو چوہدری کی توہین دکھائی دیتی ہے کیونکہ مجنوں تو صرف لیلیٰ کی خاطر اپنی جان گنوا بیٹھا اور اپنا چوہدری ، بس مت پوچھیں کتنی لیلائیں تھیں۔اب آپ کہیں یہ نہ سوچیں کہ ان میں کتنے لیلے تھے ( لیلے پیجابی میں دنبے کے بچوں کو کہا جاتا ہے ) وضاحت اس لئے ضروری جانی کہ کہیں لوگ اپنے چوہدری کو بھی جانور ہی نہ گرواننے لگیں۔
جی تو بات اپنے چوہدری کی لیلاؤں کی ہورہی تھی ۔بچپن میں تو چوہدری کو ہر لڑکی ہی لیلیٰ دکھائی دیتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ چوہدری نے پہلا عشق اپنی جمعدارنی ( چوڑی ) سے کیا تھا۔یہ یکطرفہ عشق تھا کیونکہ اپنے چوہدری کو اس چوڑی نے گھاس تک نہیں ڈالی مگر چوہدری بھی کہاں ٹلنے والا تھا روزانہ ہی اس کے آنے پر آہیں بھرتا جب تک وہ گھر کی صفائی کرتی رہتی اپنے چوہدری کے چہرے کی خوشی دیدنی ہوتی اور جونہی وہ جاتی اپنا چوہدری سگریٹ پہ سگریٹ پھونکنا شروع کر دیتا اور کہتا کہ یار دیکھا کتنی سوہنی ہے ۔
دن گزرتے رہے اپنے چوہدری کے یکطرفہ عشق میں بھی شدت آتی گئی ، منصوبے بنتے بگڑتے رہے کہ یار آج اگر آئی تو اکیلی دیکھ کر دبوچ لوں گا اور اسی اثنا میں اس چوڑی نے چوہدری کے گھر آنا بند کردیا۔اب اپنے چوہدری کی حالت دیدنی تھی کہ کبھی اس گھر جا تو کبھی اس گھر، چوہدری کو یہی دھڑکا لگ گیا کہ کہیں اسے میری کوئی بات بری تو نہیں لگ گئی۔ہم نے چوہدری کو بڑا سمجھایا کہ یارا تم نے کیا ہی کچھ نہیں تو بات کیا بری لگتی۔مگر چوہدری تھا کہ بس آہ بھرتا اور نیا سگریٹ سلگا کر سوچ میں ڈوب جاتا۔
کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ اس جمعدارنی نے اپنے ہی برادری کے لڑکے سے عشق کی شادی کر لی اور کچھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی برادری کے لڑکے کے عشق میں جل مری۔
کچھ عرصہ تک تو اپنے چوہدری کی آہ و آزاری جاری رہی آخر ہم سے نہ رہا گیا،ہم کہہ ہی بیٹھے کہ یار چویدری دفعہ کر ، لعنت بھیج اور تھوڑی ہیں زمانے میں اور ذرا ان کو تو دیکھ ، للی اور ڈیزی کو کتنی خوبصورت ہیں اتنا سنتے ہی چوہدری کو جیسے کرنٹ کا جھٹکا لگا ہو ، کہنے لگا ، بس بس ڈیزی کی بات نہ کرو ، وہ صرف میری ہے۔ہم ہکا بکا رہ گئے ، ہم نے کہا یارا اس کی تو اُڑان ہی بڑی اونچی ہے اور پھر اس کے پیچھے تو بڑی بڑی گاڑیوں والے لوگ آتے ہیں وہ ان کو گھاس تک نہیں ڈالتیں۔چوہدری کہنے لگا وہ میرا بچپن کا پیار ہے اور تم کیا سمجھتے ہو میں کسی سے کم ہوں کیا، میں شادی کروں گا تو بس ڈیزی سے ہی کروں گا،
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اتوار، 24 جون، 2007

ثواب بھی اکیلے کمانا اب جرم ٹھرا

بہت سی باتیں ہیں اور انہیں میں سے اگر ایک ایک بات پر ہی لکھنے بیٹھوں تو ہوش و ہواس گم ہو جائیں ۔ خود بھی پاگل کہلاؤں اور زمانے کو بھی ہنسنے کا موقع دوں ۔
کراچی جو روشبیوں کا شہر تھا ، جانے کس کی نظر کھا گئی ہے اسے ، ہر طرف ہو کا عالم ہے ، بجلی کا نام و نشان تک نہیں اور پانی ہے کہ لوگ قطروں کو ترس رہے ہیں۔١٢ مئی کو کچھ ایسی نظر لگی ہے کہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی اور کچھ یار لوگ بھی ایسے ہیں کہ شاید اس پر کالا تل بھی لگانے کو تیار نہیں۔
ابھی کل ہی آندھی کے ساتھ بارش بھی ایسے زور کی اتری ہے کہ اللہ کی پناہ ، شاید گناہوں کا اثر ہو گا جو ٢٣٠ سے زائد انسان اللہ کو پیارے ہوگئے۔ہوتا یہ بھی ہے کہ گناہ کسی کے اور بھگتتا کوئی اور ہے اور لگتا بھی یوں ہی ہے کہ اس دفعہ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوگا۔
اور تو اور اپنے ایدھی والوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ثواب کمانے کے لئے اپنے کاندھے آگے رکھے مگر یار لوگوں کو بھی بندہ کیا کہے ان کو ایدھی والوں کی یہ ادا بھی نہ بھائی۔
سننے میں آتا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف رضاکار رضوان احمد ایدھی کا کہنا تھا کہ ان کو اور دوسرے رضاکاروں کو کچھ مسلح افراد نے گھیرے میں لئے رکھا جس کی وجہ سے پانچ چھ گھنٹے تک میتیں ایمبولینسوں کے اندر ہی پڑی رہیں ان کے ساتھ خواتین بھی تھیں مگر کسی کو اترنے نہیں دیا گیا، رضوان احمد ایدھی نے رنجیدیگی سے بتایا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے ، کہ ہمارا انسانی خدمت کرنا جرم ہو جائے۔

اب ایدھی والوں کو کون سمجھائے کہ یار لوگوں کا نام بھی اپنی گاڑیوں پر سجا رکھیں یا پھر اپنے ثواب کا کچھ حصہ انہیں بھی بخش دیا کریں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر یار لوگ تو ثواب کمانے کے لئے آگے بڑھیں گے ہی، اور ویسے بھی آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں کون کسی کو اکیلا کھانے کمانے دیتا ہے چاہے وہ ثواب ہی کیوں نہ ہو۔

زمانے میں ایسی ریت چلی ہے یارو
ثواب بھی اکیلے کمانا اب جرم ٹھرا
شیخو

ہفتہ، 3 مارچ، 2007

خلائی محبت کا انجام اور باز کا کافیہ

خبر گرم ہے کہ ایک خاتون خلا باز لیزا نوک نے ایک دوسری خلاباز کو اس بنا پر اغوا کر کے اس کا منہہ مرچوں سے لال کر دیا کہ وہ اس کے خلاباز محبوب پر ڈورے ڈال رہی تھی۔
اصل میں باز کا کافیہ ہوتا ہی خطرناک ہے چاہے وہ کبوتر باز ہو ، پتنگ باز ہو یا کہ کوئی اور“ باز “ ۔ویسے ایک اڑنے والا باز بھی ہوتا ہے اور وہ بھی اپنے شکار پر ویسے ہی جھپٹتا ہے جیسے کہ دوسرے باز۔
اگر تھوڑا سا بھی غور کیا جائے تو ، باز کوئی بھی ہو ان سب میں ایک قدر مشترک ہے ۔اب کون سی قدر مشترک ہے ، یہ آپ پر سوچنے کے لئے چھوڑے دیتا ہوں ۔

منگل، 20 فروری، 2007

بسنت بہار

بسنت کا تہوار بس آیا ہی چاہتا ہے اور اس دفعہ تو بسنت کے تہوار کو محفوظ بنانے کے لئے ہماری حکومت نے لاکھوں روپے کے تار مفت بانٹ کر لوگوں کو اپنی موٹر سائکلوں پر لگا کر باہر نکلنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں تاکہ ان کی گردنیں محفوظ رہ سکیں۔اور تو اور تعلیمی اداروں میں بسنت کے بارے بچوں کو آگاہی کے سلسلہ میں ایک خصوصی لیکچر کا اہتمام بھی کیا گیا ہے ۔
شیدا ملنگ کہتا ہے کہ اس پر بحث کرنا ہی فضول ہے کہ کہ ایک بسنت کے تہوار کے لئے تاروں کے لاکھوں روپے عوام کے برباد کرنا اور مثبت تعلیمی سرگرمیوں کے لیکچر کی بجائے بسنت جیسے تہوار کے بارے لیکچر دینا کیا رنگ لائے گا۔
وہ صرف ایک بات کہتا ہے کہ ، ان سب حفاظتی تدابیر کے باوجود اگر کوئی گردن کٹ گئی تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد کی جائے گی؟

منگل، 16 جنوری، 2007

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

فیض احمد فیض کی اپنی آواز میں سننے کے لئے آڈیو کو چلائیں

[audio:http://lcweb2.loc.gov/mbrs/master/salrp/08205.mp3]

بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول، کہ جان اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دوکان میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دھانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

رومن اردو

bol ke lab aazaad haiN tere
bol zabaaN ab tak terii hai
teraa sutvaaN jism hai teraa
bol ke jaaN ab tak terii hai
dekh ke aahaNgar kii dukaaN meN
tuNd haiN shole surKh hai aahan
khulne lage qufloN ke dahaane
phailaa har ek zanjiir kaa daaman
bol ye thoRaa vaqt bahut hai
jism-o-zubaaN kii maut se pahle
bol ke sach ziNdaa hai ab tak
bol jo kuch kehnaa hai keh le

سوموار، 15 جنوری، 2007

روشن خیالی زندہ باد

ہا وووووو ہا ۔ہا وووووو ہا ۔ وووووو ہا۔ کیا ہو گیا ٹونی بھائی کیوں بڑکیں لگا رہے ہو یار۔کیا کوئی سلطان راہی کی پنجابی فلم تو نہیں دیکھ لی۔
ارے چھوڑو یار سارا منہہ کا ذائقہ ہی خراب کر دیا۔پنجابی اور اردو فلمیں بھی کوئی دیکھنے لائق ہیں کوئی انگریزی فلم کی بات کرو۔
اچھا چلو چھوڑو تم یہ بتاؤ کہ بڑکیں کس خوشی میں لگا رہے تھے؟
ارے شیخو یار تمہیں نہیں پتہ آج اپنے صدر صاحب نے بھی بسنت کے حق میں بیان دے دیا ہے۔
یار ٹونی مجھے تو بڑا دکھ ہوا ہے وہ دیکھو نا اگر کسی کی ڈور سے اگر کسی بچے کا گلہ کٹ گیا تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی۔اور جو یہ بجلی کا اتنا نقصان ہوتا ہے ۔یہ تو سراسر ظلم ہے ٹونی بھائی۔
تو لوگ باہر کیوں نکلتے ہیں انہیں نہیں پتہ کہ بسنت کا تہوار ہے۔اور بجلی کا کیا ہے اگر ایک دن نہیں آئے گی تو کیا قیامت آ جائے گی۔ اور پھر ہم روشن خیال لوگ ہیں آخر خوشی بھی تو منانی ہے نا اگر خوشیوں پر پابندی لگے یہ ظلم نہیں ہے کیا؟
بھائی ٹونی روشن خیالی کا یہ مطلب نہیں کہ تم لوگ کسی کا گلا کاٹ کے خوشیاں مناؤ۔
ہونہہ ، تم دقیانوسی لوگ ہو تمہیں کیا پتہ روشن خیالی کسے کہتے ہیں۔
اچھا ٹونی بھائی اگر ہم دقیانوسی ہیں تو تم تو روشن خیال ہو نا تو ذرا مجھے بھی تو بتاؤ کہ روشن خیالی کہتے کس کو ہیں۔
بس روشن خیالی ، روشن خیالی ہے۔ہر ایک کو آزادی سے رہنے کا حق ہے جس کا جو جی چاہے کرے۔دنیا میں امن سے رہے ،جس کا جو جی چاہے قانون کے دائیرہ میں رہ کر کرتا رہے۔چاہے شراب پئے یا ڈانس دیکھے۔
مگر ٹونی یار ہمارا دین اسلام تو ایسے نہیں کہتا،اس میں آزادی ہے مگر ایسی آزادی نہیں۔
مذہب کی بات نہیں کرو یار ایک تو تم دقیانوسی لوگ ہر بات میں مذہب کو گھسیٹ لیتے ہو۔ مذہب ہر ایک کا ذاتی فعل ہے کوئی عمل کرتا ہے تو کرے اور اگر نہیں کرتا تو نہ کرے۔کیونکہ مذہب اپنی جگہ ہے اور معاشرت اپنی جگہ۔
ٹونی بھائی یہ تو پھر جدید طرز کے مغربی خیالات ہوئے نا۔اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ عورتوں کو بھی اس لحاظ سے کھلی آزادی ہوئی۔
ہاں کیوں نہیں ، ان کا حق نہیں ہے کیا آخر وہ بھی تو انسان ہیں۔
مگر ٹونی بھائی اس سے تو خرابی پیدا ہوگی۔وہ دیکھو نا کہ اگر ایک عورت ایسا لباس پہنے جس سے آدمیوں کے جذبات بھڑکیں تو کیا یہ اچھی بات ہوگی۔
یار شیخو یار شیخو تم واقع میں دقیانوسی آدمی ہو۔اگر تمہیں نہیں پسند تو نہ دیکھو یار۔تمہیں کون کہتا ہے کہ تم عورتوں کی طرف دیکھ کر اپنے جزبات بھڑکاؤ۔
مگر یار جب ایسی روشن خیالی ہوگی تو نظر پڑ ہی جاتی ہے۔اچھا یہ بتاؤ کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ تمہارے گھر میں سے عورتیں ایسا لباس زیب تن کر کے یوں سڑکوں پر کھلے عام پھریں۔
کیسی بات کرتے ہو شیخو یار اگر ان کا دل کرے گا تو یہ ان کی مرضی ہے آخر وہ بھی انسان ہیں۔ان کا بھی حق بنتا ہے کہ ایک زندہ اور روشن خیال معاشرے میں آزادی سے اپنی زندگی بسر کریں۔
اچھا ٹونی یہ بتاؤ کہ کل کلاں کو اگر ہمارے ہاں ایک لڑکی مغربی معاشرے کی طرح بغیر شادی کے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ رہنے لگے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا یہ بری بات نہیں ہوگی؟
کیوں بھئی بری بات کیسے ہو گی اس کا حق نہیں ہے آزادی سے اپنی زندگی جینے کا۔
مگر ہمارا مذہب تو اس کی اجازت نہیں دیتا ٹونی بھائی
یار شیخو تمہیً کتنی بار کہا ہے مذہب کو درمیان میں مت لاؤ۔میں نے تمہیں پہلے بھی کہا ہے کہ مذہب ہر ایک کا ذاتی فعل ہے۔مذہب اپنی جگہ ہے اور معاشرت اپنی جگہ۔
مگر ٹونی یار ہمارے دین اسلام نے معاشرت ہی تو سکھائی ہے کہ کیسے رہنا ہے اور دیکھو نا یہ بھی تو مذہب ہی ہے۔
یار شیخو تم تو انتہائی دقیانوسی انسان ہو۔تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔
نہیں یار ٹونی میں تو ڈر گیا ہوں اگر ایسی ہی روشن خیالی رہی تو کل کو شراب کی دکانیں بھی کھلیں گی۔
تو اچھا ہے نا شیخو یار جس کا جی چاہے پئے جس کا جی چاہے نہ پئے۔
ٹونی یار اچھا ایک بات بتاؤ ؟ اس بارے میں تمہاری روشن خیالی کیا کہتی ہے کہ کل کلاں کو اپنے ہاں اگر ایک مرد ایک دوسرے مرد سے یا ایک عورت دوسری عورت سے شادی رچانے لگے ، میرا مطلب ہم جنس پرستی سے ہے تو کیا تمہارا یہ روشن خیال معاشرہ اس کی اجازت دے گا؟
دیکھو شیخو یار، اگر ایک روشن خیال معاشرے کے لوگ ایسا چاہیں گے اور اگر ایسا کوئی قانون پاس ہو بھی جاتا ہے تو اس میں کیا حرج ہے۔ہر ایک کو اپنی زندگی جینے کا حق ہے۔
اچھا ٹونی بھائی کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارے ہاں کی عورتیں تھائی لینڈ جیسے ملک کی طرح آزاد ہوں اور تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ ان کی معشیت ہی عورتوں کے سر پر ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں کتنی بے غیرتی ہے۔
وہ آزاد اور روشن خیال لوگ ہیں ان کی عورتیں آزاد ہیں اپنا کام کرتی ہیں اور پھر کام کرنے میں کیا برائی ہے؟ اپنی زندگی جیتی ہیں وہ ، اپنا کماتی ہیں اپنا کھاتی ہیں۔
مگر ٹونی بھائی وہ جیسا کام کرتی ہیں وہ تو بے غیرتی ہوئی نا۔بھلا یہ کیسی روشن خیالی ہوئی؟
کون سی بے غیرتی ہے وہاں شیخو بھائی ، اپنی زندگی جیتی ہیں ان کو اس کا حق ہے اور ان کا معاشرہ ان کو اس کا حق بھی دیتا ہے۔
ٹونی بھائی ہمارے معاشرے نے بھی روشن خیالی کے نام پر عورتوں کو ایسے ہی حقوق سے نوازا ہے تو کیا ہمارے ہاں کی عورتیں بھی اگر اسی ڈگر پر چل نکلی تو کیا ہمارا معاشرہ اس بات کی اجازت دے گا۔
کیوں نہیں دے گا بلکہ دینی چاہئے اگر ایک عورت اپنی مرضی سے اپنی زندگی گذارنا چاہتی ہے تو اس پر روک ٹوک کیسی؟
یہ تو بدتہذیبی اور بے غیرتی کی انتہا ہے ٹونی بھائی،
یہ بدتہذیبی نہیں ہے بلکہ یہ روشن خیالی ہے اور تم دقیانوسی لوگ کیا جانو۔تم تو کسی کو جیتا دیکھ ہی نہیں سکتے۔کیوں پابندی لگاتے ہو تم لوگ کسی کی زندگی پر؟
پابندی نہیں لگاتے ٹونی بھائی مگر یہ سب کچھ اچھا نہیں ہے اس سے تو ہمارا معاشرہ تباہ ہو جائے گا اور پھر ہمارے دین نے سب راستے بتا جو دئے ہیں کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔
یار شیخو تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ مذہب کو درمیان میں مت لاؤ۔
اچھا آخری بات ٹونی بھائی کہ اگر تمہاری ماں بہن بھی ادھ کھلے لباس میں گریبان کھولے ننگی سڑکوں پر پھریں اور لوگ انہیں پر شوق نظروں سے دیکھیں یا پھر ان میں سے کوئی کسی غیر مرد کے ساتھ تمہارے سامنے چلی جائے تو کیا تمہیں یہ سب اچھا لگے گا؟
تم غلیظ لوگ گندے آدمی تم سب دقیانوسی ہو جب تمہیں کوئی بات نہیں آتی تو تم لوگ ماں بہن کو بیچ میں لے آتے ہو، تم کیا جانو روشن خیالی کیا ہے۔

ہا وووووو ہا ۔ ہا وووووو ہا ۔ ہا وووووو ہا۔ روشن خیالی زندہ باد

اتوار، 14 جنوری، 2007

عقل بڑی کہ بھینس

مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکی کہ اس محاورے کا کیا مقصد ہے یا یہ محاورہ کہنے والا کہنا کیا چاہتا تھا یا کہ یہ وہ اس مثال کو دے کر کیا واضح کرنا چاہتا تھا۔
عقل تو عقل ہے اس کا بھینس سے کیا موازنہ ، ہاں اگر یوں کہا جاتا کہ عقل بڑی کہ نقل ، تو پھر سوچا جا سکتا تھا کہ ان دونوں چیزوں میں سے کون سی چیز بڑی ہے یا کس کی افادیت زیادہ ہے۔
چلیں ہم عقل بڑی کہ بھینس کی مثال کو اِسی کے لئے چھوڑ دیتے ہیں جس نے اُسے تخلیق کیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عقل بڑی یا نقل میں کس کی افادیت زیادہ ہے۔
اسی سلسلہ میں ، میں چند مشہور اور چیدہ چیدہ لوگوں سے ملاقاتیں بھی کیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

لوٹے شاہ سے سوال کیا جو ایک مزار کا مجاور اور تقریباً دو تین سو مریدوں کا سچا پیر بھی ہے ، وہ کہتا ہے ، عقل بڑی ہے۔
ایک مسجد کے پیش امام سے سوال کیا ، کہنے لگا عقل ہی بڑی ہے نقل کا کیا کام۔
ایک بڑے کاروباری شخص سے سوال کیا جو کہ کروڑوں کا مالک ہے ، کہنے لگا عقل بڑی ہے۔
ایک اخبار کے ایڈیٹر سے ملاقات ہوئی تو پوچھا ، کہنے لگا ، عقل ہی بڑی ہے۔
ایک مشہور شاعر سے پوچھا تو اس نے بھی یہی کہا کہ ، بھائی ہم تو عقل ہی کو بڑا کہیں گے۔
ایک سیاستدان سے ملنا ہوا تو پوچھ لیا کہ دونوں میں سے کون بڑا ہے۔اس نے بھی عقل کا ہی نام لیا۔
اپنے استاد بابے عیدو سے دریافت کیا تو کہنے لگا ، ابے سٹھیا گیا کیا ، عقل ہی بڑی ہووے۔
ایک نام نہاد فلسفی سے مل بیٹھے تو پوچھ لیا،اس نے ہوں کو لمبا کیا اور کافی دیر بعد جواب دیا کہ دیکھو میاں عقل کے بڑا ہونے کے بہت سے پہلو ہیں۔میں نے ان کے پہلو بتانے سے پہلے ہی ان سے ہی پہلوتی کر لی۔
ایک راہ چلتے فقیر کو روک کر سوال کر دیا، اس نے کوئی جواب نہ دیا بس دیکھا کیا اور مسکراتا ہوا چل دیا۔
آخر کار میں پاگل خانے جا پہنچا اور دور اپنی سوچوں میں گم ایک پاگل سے سوال کیا ،
سنو کیا تم مجھے بتا سکتے ہو کہ عقل بڑی ہے کہ نقل ، میرا مطلب ہے ان دونوں میں سے ہم کس کو بڑا کہیں گے یا ان میں سے کس کی اہمیت کو زیادہ گروانیں گے۔
وہ قہقہ مار کر زور زور سے ہنسنے لگا اور پوچھتا ہے کون سے وارڈ میں ٹھکانہ ہے پہلے کبھی دیکھا نہیں تم کو۔
کہنے لگا ، دونوں ہی اپنی اپنی جگہ بڑی ہیں۔اگر عقل کو دیکھو تو ٹھکانہ پاگل خانہ میں اوراگر نقل کو دیکھو تو ٹھکانہ صدارت کی کرسی پر ، تو کیا یہ دونوں بڑی نہ ہوئیں۔

جمعہ، 12 جنوری، 2007

شراب چیز ہی ایسی ہے کہ نہ چھوڑی جائے

خبر ہے کہ اپنے پیارے پاکستان کے کپتانوں نے انگور کے پانی سے غسل فرما کر آسمان کی سیر کرنے کی ٹھانی تھی مگر بدقسمتی سے جہاز کے مسافروں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔اور اب ان کپتانوں کو پی آئی اے حکام نے عام پانی سے غسل کرنے کے لئے گھر بھیج دیا ہے۔

ہمارے پاکستان میں پہلے کبھی پرانے دور میں ایسا ہوتا تھا کہ اگر کوئی غلطی سے شراب پی بیٹھا اور پھر بدقسمتی کے ہاتھوں ہماری پاکی پولیس کے ہتھے چڑھ گیا تو جانو وہ تو گیا اندر دو چار سال کے لئے اور اس کے جو پیسے خرچ ہوتے تھے اس کا تو حساب ہی مت پوچھیں۔
اگر ہم اپنے پیارے پاکستان جو کہ کسی زمانے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے بھی جانا پہچانا جاتا تھا، شراب پینے کے طور پر حد لاگو ہونے کی بات کریں تو مجھے یاد نہیں کہ کبھی ایسی سزا کسی دور میں بھی کسی کو ہوئی ہو۔
اب جبکہ ہمارے ہاں روشن خیالی کا دور دورہ ہے اب تو رات کو پولیس والے بھی کسی کا منہہ نہیں سونگھ سکتے پکڑنا تو دور کی بات ٹھرتی ہے۔بس غل غپاڑہ نہ ہو ، چاہے آپ ساری بوتل ہی کیوں نہ چڑھا آئیں۔اپنے کپتان لوگوں سے بھی بس یہ ہی غلطی ہوئی ہوگی کہ انہوں نے اپنی پاک زبان سے کچھ اول فول بک دیا ہوگا جوکہ کسی ایسے شریف آدمی کے کانوں میں پڑ گیا جو کہ آٹھ دس سال بعد اپنے پیارے وطن پاکستان آ رہا ہوگا۔اگر اس شریف آدمی کے کانوں میں بھنک نہ پڑتی تو یہ جہاز تو کیا روزانہ پتہ نہیں کتنے ہی جہاز آتے ہیں۔بس غل غپاڑہ نہیں ہوتا۔

شراب چیز ہی ایسی ہے کہ نہ چھوڑی جائے
یہ میرے یار کے جیسی ہے کہ نہ چھوڑی جائے