صفحات

اتوار، 24 جون، 2007

ثواب بھی اکیلے کمانا اب جرم ٹھرا

بہت سی باتیں ہیں اور انہیں میں سے اگر ایک ایک بات پر ہی لکھنے بیٹھوں تو ہوش و ہواس گم ہو جائیں ۔ خود بھی پاگل کہلاؤں اور زمانے کو بھی ہنسنے کا موقع دوں ۔
کراچی جو روشبیوں کا شہر تھا ، جانے کس کی نظر کھا گئی ہے اسے ، ہر طرف ہو کا عالم ہے ، بجلی کا نام و نشان تک نہیں اور پانی ہے کہ لوگ قطروں کو ترس رہے ہیں۔١٢ مئی کو کچھ ایسی نظر لگی ہے کہ اترنے کا نام ہی نہیں لے رہی اور کچھ یار لوگ بھی ایسے ہیں کہ شاید اس پر کالا تل بھی لگانے کو تیار نہیں۔
ابھی کل ہی آندھی کے ساتھ بارش بھی ایسے زور کی اتری ہے کہ اللہ کی پناہ ، شاید گناہوں کا اثر ہو گا جو ٢٣٠ سے زائد انسان اللہ کو پیارے ہوگئے۔ہوتا یہ بھی ہے کہ گناہ کسی کے اور بھگتتا کوئی اور ہے اور لگتا بھی یوں ہی ہے کہ اس دفعہ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوگا۔
اور تو اور اپنے ایدھی والوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ثواب کمانے کے لئے اپنے کاندھے آگے رکھے مگر یار لوگوں کو بھی بندہ کیا کہے ان کو ایدھی والوں کی یہ ادا بھی نہ بھائی۔
سننے میں آتا ہے کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے چیف رضاکار رضوان احمد ایدھی کا کہنا تھا کہ ان کو اور دوسرے رضاکاروں کو کچھ مسلح افراد نے گھیرے میں لئے رکھا جس کی وجہ سے پانچ چھ گھنٹے تک میتیں ایمبولینسوں کے اندر ہی پڑی رہیں ان کے ساتھ خواتین بھی تھیں مگر کسی کو اترنے نہیں دیا گیا، رضوان احمد ایدھی نے رنجیدیگی سے بتایا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے ، کہ ہمارا انسانی خدمت کرنا جرم ہو جائے۔

اب ایدھی والوں کو کون سمجھائے کہ یار لوگوں کا نام بھی اپنی گاڑیوں پر سجا رکھیں یا پھر اپنے ثواب کا کچھ حصہ انہیں بھی بخش دیا کریں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو پھر یار لوگ تو ثواب کمانے کے لئے آگے بڑھیں گے ہی، اور ویسے بھی آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں کون کسی کو اکیلا کھانے کمانے دیتا ہے چاہے وہ ثواب ہی کیوں نہ ہو۔

زمانے میں ایسی ریت چلی ہے یارو
ثواب بھی اکیلے کمانا اب جرم ٹھرا
شیخو