صفحات

منگل، 31 مئی، 2011

پاکستان کا ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے

جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ایک انسان جس علم میں ماہر ہے اس کا وہ فائدہ اٹھا کر دوسروں کو گمراہی میں دھکیل دے۔جیسا کہ میں نے شروع میں بات کی کہ ‘‘ جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ‘‘ یعنی اگر کوئی ڈاکٹر کسی خاص مرض کا ماہر ہے تو اس کی تشخیص اور دوا کو بہتر جانا جائے گا اور لوگ دوسرے عام ڈاکٹروں کی نسبت اس پر زیادہ بھروسہ کریں گے اور اس کے کہے پر عمل بھی کریں گے۔

ایسے ہی دینی ڈاکٹر کا بھی سمجھ لیں ، جس کو دین کا صحیح علم ہو گا وہ صحیح بات کرے گا یہ الگ بات ہے کہ وہ اس علم کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دنیاوی منفعت کے لئے لوگوں کو گمراہ کرتا پھرے ۔یہاں مجھے ایک بات یاد آگئی پتہ نہیں کس نے کہی ہوگی ، حالانکہ اسے کبھی کوئی انگریز سے منسوب کرتا ہے اور کوئی کسی سے۔۔۔بحرحال کہتے کچھ یوں ہیں کہ پاکستانیوں میں ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے ۔۔۔اور دیکھا جائے تو یہ حقیقت سے قریب ترین بات ہے میں نے بذات خود اسے کئی بار آزمایا ہے۔آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کسی بیماری کا یا کسی دینی مسلے کا تو وہ آپ کو جھٹ سے جواب بھی دے گا اور اس کے بارے میں دلائل بھی دے مارے گا۔۔اور انہیں ڈاکٹروں اور مولویوں کی وجہ سے آج بہت سے لوگ قبروں کے اندر ہیں اور جو باہر ہیں وہ قبروں اور قبر والوں کو سجدے کر رہے ہیں

ہفتہ، 28 مئی، 2011

میں اپنے کئے پر شرمندہ ہوں

بارہ اگست دو ہزار چھ کو کو ایک تحریر بنام واصف علی واصف کے تحریر کی تھی جس کے چند الفاظ چھوڑ کر وہ تمام تحریر حقیقت پر مبنی تھی وہ چند الفاظ میں نیچے کوٹ کر رہا ہوں

سڑک سے تھوڑا اندر کھائی کے بالکل اوپری کنارے پر کچھ لوگ کھڑے ایک مردے کو دفنا رہے تھے
پوچھنے پر پتہ چلا کہ نشئی آدمی تھا اور پتہ نہیں کیا لکھتا رہتا تھا اور آخر کار آج چل بسا ، اسی کو دفنا رہے ہیں

حالانکہ میں نے واصف علی واصف کو نہ ہی دفناتے ہوئے دیکھا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس کے بارے میں نشئی کے الفاظ کہے۔اللہ مجھے معاف کرے
انسان کوئی بھی ہو اچھا یا برا ، اس کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہنا چاہئے ۔ کیونکہ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ جیسا تم بوؤ گے ویسا ہی کاٹو گے۔میں نے بہت سے ایسے انسان دیکھے ہیں جنہوں نے جو کہا ویسا ان کے آگے بھی آیا اور میں اس کی مثال آپ بھی ہوں ۔۔میرے ساتھ بارہا ایسا ہوا کہ جیسا میں نے کیا ویسا آگے بھی آیا۔
دو ہفتے پیشتر میری ماں مجھے چھوڑ کر چلی گئی ( اللہ سبہانہ و تعالی اسے جنت میں جگہ عطا فرمائے آمین) بڑی عظیم ماں تھی میری ، بالکل ایسے ہی جیسے عظیم مائیں ہوتیں ہیں جن کی مثالیں دی جا سکیں۔رات ساڑھے گیارہ بجے ان کی وفات ہوئی ، ایک بجے کے قریب بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ میانی صاحب ( میانی صاحب لاہور میں واقع ایک بڑا قبرستان ہے) جا کر قبر کا انتظام کر کے آؤ ۔میں اور میرا ایک دوست اسی وقت جناز گاہ جا پہنچے ۔ وفات کا اندراج کروانے کے بعد ہم گورکن کے ہمراہ قبرستان کے اندر قبر کی جگہ دیکھنے چلے گئے ۔( رات میں قبرستان میانی صاحب میں ایک عجیب ہی سماع ہوتا ہے جس کی تفصیل انشااللہ پھر پیش کروں گا) بحرحال کافی تلاش کے بعد بھی مجھے کوئی جگہ پسند نہیں آ رہی تھی ۔ میں مصر تھا کہ مجھے زیادہ اندر قبر نہیں بنوانی بلکہ سڑک کے نزدیک ہو تو بہتر ہو گا۔ آخر کار گورکن نے مجھے کہا کہ میں آپ کو مزنگ والی سائڈ پر جگہ دکھاتا ہوں ۔ہم اس کے ساتھ مزنگ کے ساتھ چوبرجی کی طرف جانے والی سڑک پر اندر قبرستان کے اند داخل ہوگئے اس نے وہاں اپنے ایک دوست گوکن کو اٹھایا اور مجھے قبر کی جگہ دکھانے کو کہا۔اس نے مجھے واصف علی واصف کی طرف سے جانے والی گلی کے اندر شروع میں قبر کی جگہ دکھائی جو مجھے پسند آگئی اور آج میری عظیم والدہ واصف علی واصف کے ساتھ گلی تھوڑا آگے جاکر مدفن ہے اور میں واصف علی واصف کی قبر کے سامنے سے ہوتا ہوا اپنی والدہ محترمہ کی قبر پر حاضری دینے جاتا ہوں ۔۔۔سوچتا ہوں اللہ جانے اس میں بھی کیا حکمت ہے مگر میں اب واصف علی واصف کے آگے سے گزرتے ہوئے شرمندگی محسوس کرتا ہوں ۔۔۔اللہ مجھے معاف کرے ۔۔۔پتہ نہیں کیسا انسان تھا ، میں نہیں جانتا ۔اللہ اس کے ، میری والدہ کے اور تمام مسلمانوں کے گناہ معاف کرے آمین