صفحات

منگل، 31 مئی، 2011

پاکستان کا ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے

جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ ایک انسان جس علم میں ماہر ہے اس کا وہ فائدہ اٹھا کر دوسروں کو گمراہی میں دھکیل دے۔جیسا کہ میں نے شروع میں بات کی کہ ‘‘ جو جس چیز کا ماہر ہوتا ہے اس کی رائے کو معتبر بھی مانا جاتا ہے ‘‘ یعنی اگر کوئی ڈاکٹر کسی خاص مرض کا ماہر ہے تو اس کی تشخیص اور دوا کو بہتر جانا جائے گا اور لوگ دوسرے عام ڈاکٹروں کی نسبت اس پر زیادہ بھروسہ کریں گے اور اس کے کہے پر عمل بھی کریں گے۔

ایسے ہی دینی ڈاکٹر کا بھی سمجھ لیں ، جس کو دین کا صحیح علم ہو گا وہ صحیح بات کرے گا یہ الگ بات ہے کہ وہ اس علم کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دنیاوی منفعت کے لئے لوگوں کو گمراہ کرتا پھرے ۔یہاں مجھے ایک بات یاد آگئی پتہ نہیں کس نے کہی ہوگی ، حالانکہ اسے کبھی کوئی انگریز سے منسوب کرتا ہے اور کوئی کسی سے۔۔۔بحرحال کہتے کچھ یوں ہیں کہ پاکستانیوں میں ہر دوسرا بندہ ڈاکٹر اور مولوی ہے ۔۔۔اور دیکھا جائے تو یہ حقیقت سے قریب ترین بات ہے میں نے بذات خود اسے کئی بار آزمایا ہے۔آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کسی بیماری کا یا کسی دینی مسلے کا تو وہ آپ کو جھٹ سے جواب بھی دے گا اور اس کے بارے میں دلائل بھی دے مارے گا۔۔اور انہیں ڈاکٹروں اور مولویوں کی وجہ سے آج بہت سے لوگ قبروں کے اندر ہیں اور جو باہر ہیں وہ قبروں اور قبر والوں کو سجدے کر رہے ہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں