صفحات

منگل، 20 نومبر، 2012

ساغر صدیقی غزل ۔۔۔ وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو

آج ہم بھی تری وفاؤں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو

تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو

3 تبصرے:

  1. وقت کی چند ساعتیں ساغر
    لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو

    جواب دیںحذف کریں
  2. کیا بات ہے جناب ۔ اب مٹھائی کب کھلا رہے ہیں؟۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. جب آپ کا جی چاہئے ۔۔ مٹھائیاں ہی مٹھایاں

    جواب دیںحذف کریں