صفحات

جمعرات، 27 دسمبر، 2012

اپنے کئے پر پانی بہا کر جائیں

یہ تو لکھی پڑھی اور مشاہدے کی بات ہے کہ ہر انسان کی فطرت دوسرے انسان سے جدا ہوتی ہے اور یہ بھی ہے کہ فطرت کے ساتھ ساتھ انسان کا اپنی فطرتی چیزوں سے فرار بھی ممکن نہیں ہے۔جیسا کہ رفع حاجت کا ہونا وغیرہ

رفع حاجت ایک خوبصورت لفظ ہے ۔اس کے سننے سے انسان کو غلاظت کا کم احساس ہوتا ہے۔اگر یہی ہم رفع حاجت کو لیٹرین کہیں تو ذرا تھوڑا زیادہ غلاظت کا احساس ہو گا۔اور اگر یہی ہم اسے پاخانہ کہہ کر پکاریں تو غلاظت کا احساس بہت بڑھ جاتا ہے ۔اور اگر اس سے تھوڑا اور آگے بڑھ جائیں یعنی ہم رفع حاجت کو ٹٹی کہہ دیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی بہت غلیظ شے کا نام لے لیا۔۔۔بلکہ ٹٹی کہنے کے ساتھ ساتھ انسان کا منہہ بھی برا سا بن جاتا ہے۔اور اگر یہی کوئی پنڈ کا بچہ سارے شہری مہمانوں کے بیچ اُٹھ کر کہہ دے کہ امی مینوں ٹٹی آئی اے ( امی مجھے لیٹرین آئی ہے ) تو سب کے منہہ ایسے بن جائیں گے جیسے وہ بچہ ان کے منہہ پر پاخانہ کرنے کا کہہ رہا ہو ۔

جیسا میں نے پہلے کہا کہ انسان کی فطرت دوسرے انسان سے جدا ہوتی ہے ۔اور دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ کچھ لوگوں کی فطرت بالکل بھی نہیں بدلتی چاہے وہ کتنا ہی پڑھ لکھ جائیں ۔بچپن سے ہی اگر ایک ماں اپنے بچے کی تربیت صحیح انداز سے کرے ،اس کی تعلیم و تربیت پر صحیح توجہ دے اور اس کی عادتوں کو صحیح رخ پر استوار کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ بچہ معاشرے کا ایک اچھا شہری نہ بن سکے جس سے لوگوں کا فائدہ حاصل ہو اور وہ اپنی عادتوں سے کسی کے لئے پریشانی کا باعث نہ بن سکے۔

پبلک لیٹرین ہوں یا کہ گھریلو لیٹرین ۔۔۔ بہت سے لوگوں کو جن میں پڑھا لکھا طبقہ بھی شامل ہے میں دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ لیٹرین میں رفع حاجت کے بعد پانی بہانا تک گوارا نہیں کرتے ۔کچھ لوگ تو ایسی بڑی بڑی پھواریں مارتے ہیں کہ بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اس انسان کے اپنے پیر وغیرہ کیسے غلاظت سے بچائے ہوں گے ۔بندہ جوں ہی لیٹرین میں جاتا ہے تو آٹھ دن پہلے کا کھایا گیا کھانا بھی باہر نکل جاتا ہے ۔ایسی گندی بو ، ایسی غلاظت ۔۔ایسی ایسی پھواریں ۔۔دکھائی یوں دیتا ہے ۔جیسا کہ کسی بہترین مصور نے لیٹرین کی پچھلی دیوار پر تجریدی آرٹ بنا رکھا ہو ۔

پاکی کا خیال رکھنا نصف ایمان ہے ۔اور ویسے بھی پاک صاف رہنا انسان کی صحت کے لئے بہتر ہوتا ہے ۔اگر یہی آپ اپنی لیٹرین کو صحیح انداز سے کریں گے اور پھر اسے اچھی طرح اپنی پیٹھ سے دھوئیں گے تو آپ کو بواسیر بھی کبھی نہیں ہو گی ۔بواسیر کا مرض سب سے زیادہ انہیں لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنے پاخانے کو اپنی پیٹھ سے صحیح ظریقے سے صاٍف نہیں کرتے ۔

اپنا پاخانہ اپنی پیٹھ سے صاف کرنے کے بعد اپنے پاؤں اور اپنے ہاتھ اچھی طرح دیکھیں اور اسے صاف کریں ۔اس کے بعد جہاں بیٹھ کر آپ نے پاخانہ کیا تھا اسے اچھی طرح صاف کریں اور اپنے تمام کئے دھرے پر خوب پانی بہا کر باہر نکلیں ۔تاکہ بعد میں آنے والے انسان آپ کو برا بھلا نہ کہہ سکیں ۔

ہفتہ، 15 دسمبر، 2012

محترم سید شاکرالقادری صاحب اور اشتیاق علی صاحب کے اعزاز میں لاہور میں تقریب پزیرائی کا انعقاد

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عوام کو صحیح سمت دکھانے کے لئے ایک اچھے لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے ایسے ہی کسی بھی تحریک ، انجمن یا کہ کسی محفل کو رواں دواں اور متحرک رکھنے کے لئے ایک اچھے ، باصلاحیت ، چاق و چوبند لیڈر کا ہونا بھی بے حد ضروری ہوتا ہے ۔عاطف بٹ میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں ۔ بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ اگر لاہور میں عاطف بٹ نہ ہوتا تو محفل کی سرگرمیاں لاہور میں ایسے ہی سونی ہوتیں جیسا کہ آج سے چھ ماہ پہلے تک تھیں۔میں عاطف بٹ کو سلام اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس کی محنت اور کاوشوں سے کم از کم لاہور میں اردو محفل اب کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔
میں اس کے ساتھ ساتھ ساجد بھائی کی خدمات کا معترف ہوں کہ وہ اپنی انتہائی خرابی صحت کے باوجود اردو محفل کے لئے انتھک محنت اور جدوجہد میں عاطف بٹ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔۔کبھی کبھی میں خود سے سوچتا ہوں کہ ان دونوں کو کیا ملتا ہے جو یہ یوں اپنا قیمتی وقت، پیسہ خرچ کئے جاتے ہیں ۔پھر سوچتا ہوں ، شاید کہ پیار اور جذباتیت کی انتہا ہے جو کہ انہیں اردو محفل سے ہے ۔

ابھی کل ہی کی بات ہے کہ ساجد بھائی اور عاطف بھائی بارش میں بھیگتے ہوئے میرے والد صاحب کی تعزیت کے لئے میرے گھر پہنچے تھے ۔تعزیت کے بات بہت سی باتیں ہوئیں اور باتوں باتوں میں ہی عاطف بٹ نے محترم سید شاکرالقادری صاحب کا تذکرہ کر دیا کہ وہ آج کل لاہور میں موجود ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ لاہور میں بھی ان کے اور اشتیاق علی کے اعزاز میں ایک تقریب پزیرائی کا اہتمام کر دیا جائے ۔
میں نے اور ساجد بھائی نے کہا کہ اس سے اچھی اور کیا بات ہو سکتی ہے ۔ بحرحال عاطف بٹ نے اسی وقت محترم سید شاکرالقادری صاحب کو فون کیا اور ان سے ملنے کا کہہ کر مجھ سے رخصت ہو لئے ۔

آج جمعہ کی سہہ پہر کو عاطف بٹ صاحب کا فون آیا اور کہنے لگے کہ شام پانچ بجے کازمو پولیٹن کلب باغِ جناح میں محترم سید شاکرالقادری صاحب اور اشتیاق علی کے اعزاز میں تقریب پذیرائی کے انعقاد کے انتظامات کو مکمل شکل دے دی گئی ہے بس آپ نے پہنچنا ہے ۔
میں اور میرا ایک دوست نیر احمد شکوہ تقریباً ساڑھے چار بجے گھر سے نکلے سڑکوں پر ٹریفک کے بے پناہ رش کی بدولت ہم کازمو کلب میں پندرہ منٹ لیٹ پہنچے ۔میں اپنے تئیں پیشمان سا ہو کر اندر داخل ہوا چاہتا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں ، چہار سو ہو کا عالم ہے ۔اردو محفل کا نہ کوئی بندہ نہ بندے کی ذات ۔

ایسے میں عاطف بٹ کا فون آ جاتا ہے ، پوچھتے ہیں کہاں ہیں آپ ، میں کہتا ہوں سرکار آپ کے قدموں میں ۔۔۔ کہنے لگے میں بس راستے میں ہوں ، وہاں میرے دوست حبیب چوہان صاحب ہوں گے ان سے مل لیں ۔
میں ہوں کہہ کر حبیب چوہان صاحب کو ڈھونڈتا ہوں ۔چوکیدار سے پتہ کرنے پر حبیب چوہان صاحب ٹہلتے ہوئے مل جاتے ہیں ۔ خیر سلام دعا ہوئی ، بڑی محبت سے پیش آئے ، پیار سے ہاتھ پکڑ کر کلب کے اندر لے گئے اور نرم گرم صوفے پر جا بٹھایا۔

حبیب چوہان صاحب کا تعارف پوچھنے پر پتہ چلا موصوف صحافت سے تعلق رکھتے ہیں اور لاہور میں اپنا چینل کے سائے تلے کام کر رہے ہیں ۔باتوں باتوں میں میں کلب کے ماحول کا جائزہ بھی لے رہا تھا۔اچھی اور پرسکون جگہ تھی ۔۔۔شرارت سوجھی ، چوہان صاحب سے پوچھا کہ چوہان صاحب یہاں کوئی پینے پلانے کو بھی کچھ ملے گا کہ نہیں ، کہنے لگے کیا مطلب ، میں نے کہا کہ اس کلب میں کوئی شراب وراب کا انتظام بھی ہے کہ نہیں ۔۔چوہان صاحب مجھے حیرت سے دیکھا کئے۔ابھی وہ محو حیرت ہی تھے کہ میں پوچھ بیٹھا کہ اچھا علیحدہ کمروں ومروں کا تو انتظام ہو گا نا یہاں ۔۔۔
اب چوہان صاحب شاید چڑ کر بولے بھائی یہ وہ والا کلب نہیں ہے ۔ یہ پاکستانی کلب ہے ۔یہاں یہ سب نہیں ہوتا ۔۔اتنا کہتے ہی چوہان صاحب اٹھ کر باہر کو چل دئے

تھوڑی دیر بعد کیا دیکھتا ہوں کہ باہر سے حبیب چوہان صاحب کے ساتھ محترم سید شاکرالقادری صاحب ،اشتیاق علی صاحب،فرخ منظور صاحب اور شعبان نظامی صاحب کی آمد ہوتی ہے ۔ٹی وی لاؤنج میں سب سے تعارف حاصل ہوتا ہے ۔جس میں شاید محبت اور انسیت کا عنصر شامل ہونے کی وجہ سے ہم میں سے کسی کو ایک دوسرے سے اجنبیت محسوس نہیں ہوئی ۔
کچھ دیر بعد ہم اٹھ کر کانفرنس روم میں چل دیتے ہیں جہاں ہمارے بیٹھتے ہی ساجد بھائی کی آمد ہوتی ہے ۔بعد آزاں حسن نظامی صاحب( پسر شاکرالقادری) ، احمد صابر سبہانی ، آصف بٹ ( صحافی ۔ اپنا چینل ) کی آمد بھی ہوتی ہے۔

تھوڑا سا تصویری سیشن ہوتا ہے ۔۔۔۔

عاطف بٹ صاحب اٹھ کر تقریب کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے پہلے اردو محفل کا تفصیلی تعارف پیش کرنے کے ساتھ ساتھ محترم سید شاکرالقادری اور اشتیاق علی کے بارے تعریفی کلمات ادا کرتے ہوئے القلم تاج نستعلیق فونٹ کے بارے میں ان کی خدمات کا ذکر بڑے خوبصورت انداز میں کرتے ہیں ۔

بعد ازاں عاطف بٹ صاحب میری طرف گھور کر دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی مسکراتے ہوئے مجھے اردو محفل پر اور اردو بلاگر پر روشنی ڈالنے کا کہہ کر مجھ ناچیز کو بولنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ہم نے بھی جو الٹا سیدھا منہہ میں آیا کہہ ڈالا۔

اشتیاق علی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی جنہوں نے محترم سید شاکرالقادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کو اپنی شاگردی میں قبول کیا اور ان سے اس عظیم کام میں مدد لی۔انہوں نے کہا کہ القلم تاج نستعلیق فونٹ بنانے سے پہلے میں اس بارے کچھ بھی نہیں جانتا تھا یہ صرف محترم سید شاکرالقادری کی مہربانی سے ہی ممکن ہوسکا ہے۔

آخر میں محترم سید شاکرالقادری صاحب کو دعوت خطاب دی گئی ۔محترم سید شاکرالقادری صاحب نے ابتدا سے لے کر القلم تاج نستعلیق فونٹ بنانے تک کے مرحلے پر تفصیلاً روشنی ڈالی ۔تمام حاضرین نے ان کی کاوشوں پر خوب دل کھول کر داد دی اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

آخری مرحلے میں اردو محفل کی جانب سے محترم سید شاکرالقادری صاحب کے شاگرد اشتیاق علی کو ایک ہدیہ دیا گیا جو کہ رقم کی صورت میں تھا جس کی مالیت میرے علم میں نہیں ، مگر میرے اندازے کے مطابق دس یا بیس ہزار کے لگ بھگ ہو سکتی ہے ۔اس ہدیہ کو پیش کرنے کے لئے نبیل نقوی کے دوست احمد صابر سبحانی صاحب سے درخواست کی گئی تاکہ نبیل نقوی کی کمی دور کی جاسکے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محترم سید شاکرالقادری صاحب
اچھے اور انتہائی نفیس انسان ۔۔۔۔ مل کر خوشی محسوس ہوئی ۔۔میرے خیال میں ان کی محنت اور کاوشوں کی جتنی پزیرائی انہیں ملنی چاہئے شاید ہم لوگ ان کو دے نہ سکیں ۔اللہ انہیں اس کام کا اجر دے

اشتیاق علی قادری
اچھا اور محنتی انسان ۔۔۔ شاید اس بندے میں کوئی چیز ، کوئی لگن ہے جسے محترم سید شاکرالقادری صاحب نے محسوس کر لیا۔

حسن نظامی ( پسر شاکرالقادری ) ۔
اپنے والد محترم کی طرح نفیس انسان ۔۔۔۔ادب کرنے والا ، اپنے والد محترم کی تعریف پر اس کی آنکھوں کی خوبصورت چمک مجھے اس کی فرمانبرداری کا پتہ دیتی ہے


فرخ منظور
ایک اچھا اور سلجھا ہوا انسان جو انسانوں کو پرکھ کر اس پر بھروسہ کرنا پسند کرتا ہے ۔۔۔

شعبان نظامی
آنکھوں میں شرارت لئے سب کے چہرے پڑھنے والا ایک اچھا انسان

احمد صابر سبحانی
ایک اچھے انسان ، عاطف بٹ صاحب کے دوست ، فیصل بنک کے منیجر اور اردو محفل کے ایڈمن نبیل نقوی کے ہمسائے اور دوست


حبیب چوہان
اچھا انسان ، سینئر صحافی ۔۔۔ عاطف بٹ صاحب کا دوست ۔اتنے بہتریں انتظامات پر ہم سب ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔


آصف بٹ
سینئر صحافی ۔۔ اپنا ٹی وی کے لاہور کے نمائنگان میں شامل

[gallery ids="487,488,489,490,491,492,493,494,495,496,497,498,499,500,501,502,503,504,505,506,507,508,509,510,511,512,513,514,515,516,517,518,519,520,521,522,523,524,525,526,527,528,529,530,531,532,533,534,535,536,537,538,539,540,541,542,543,544,545,546,547,548,549,550,551,552,553,554,555,556,557,558,559,560,561,562,563,564,565,566,567,568,569,570,571,572,573,574,575,576,577,578,579,580,581,582,583,584,585,586,587,588,589,590,591,592,593,594,595,596"]